آپریشن شعبان  : دہشتگردوں کا قبرستان

جسم میں جب کوِئی پھوڑا بن جائے اور وہ عام دوائی سے ٹھیک نہ ہو تو اس کے لیے معالج کو جراحی کو اخیتار کرنا پڑتا ہے تاکہ مستقل علاج ہو اور بیمار ہونے کی وجہ کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔ حالانکہ یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے مگر اس کے بغیر مرض سے چھٹکارا پانا ممکن نہیں۔ اسی حکمت عملی کو اپناتے ہوئے محافظین اسلامی جمہوریہ پاکستان نے عین اسلامی اصولوں اور آئین پاکستان کی روشنی میں مقتدرہ کے حکم پہ کالعدم دہشت گرد تنظیموں بلوچستان لبریشن آرمی، تحریک طالبان پاکستان اور دیگر فسادی ٹولوں کے خاتمے کیلیے آپریشن شعبان کا آغاز کر دیا ہے جس کی وجہ سے اٹھنے والے چیخیں بھارت اور افغانستان کے ایوانوں تک سنی جا رہی ہیں۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ساتھ ان اسلام پاکستان دشمن طاقتوں کو نہ صرف دھول چٹائی جا رہی ہے بلکہ وہ اپنے خارجیوں کی لاشیں تک چھوڑ کے بھاگ رہے ہیں۔ اور ان کے نا پاک عزائم خاک آلود ہوتے جا رہے ہیں۔ روز روز کے تماشے کو نہایت صبر و ضبط کے ساتھ دیکھا جارہا تھا مگر خون نا حق اتنا ارزاں تو نہیں کہ ریاست چپ سادھ لے۔ اس آپریشن کو عوام کے مطالبے کے مطابق شروع کیا گیا ہے جس میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے امن پسند اور دہشت گردی سے پریشان فرد کی مرضی اور پوری حمایت شامل ہے۔ آخر کب تک وہ اپنے پیاروں کے لاشے اٹھاتے رہیں، اپنے کاروبارسے ہاتھ دھوتے رہیں جو ان کے بڑوں نے کئی سالوں کی ریاضت اور محنت سے کھڑے کیے، کب تک اپنی زمین کا امن برباد ہوتے دیکھتے رہیں، صبر کے پیمانے لبریز ہو گئے اور اپنی آءیندہ آنے والی نسلوں کو ایسا بلوچستان اور خیبر پختونخوا نہیں دیا سکتا  جو فساد ، مایوسی، قتل و غارت کی آماجگاہ ہو۔

          پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی، انتہا پسندی اور مسلح تشدد جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ان چیلنجز نے نہ صرف ہزاروں قیمتی جانیں نگلیں بلکہ قومی معیشت، سماجی ہم آہنگی، تعلیم، صحت، سرمایہ کاری اور ترقی کے عمل کو بھی شدید متاثر کیا۔ خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے صوبے، جہاں قدرتی وسائل، ثقافتی تنوع اور بے شمار ترقیاتی امکانات موجود ہیں، طویل عرصے تک بدامنی کے باعث اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق ترقی نہ کر سکے۔ اس صورتحال نے ریاستی اداروں کو مجبور کیا کہ وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مربوط اقدامات کریں تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور ترقی کا سفر دوبارہ بحال ہو۔یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ دہشت گردی کسی ایک فرد، علاقے یا ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ چیلنج ہے۔ جب کسی بازار میں دھماکہ ہوتا ہے، کسی شاہراہ پر حملہ کیا جاتا ہے، کسی اسکول، عبادت گاہ یا سرکاری تنصیب کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو پہنچتا ہے۔ ایک واقعہ سینکڑوں خاندانوں کو غم اور بے یقینی میں مبتلا کر دیتا ہے، سرمایہ کار خوفزدہ ہو جاتے ہیں، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی صرف سکیورٹی اقدامات تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ اس میں سماجی، معاشی، تعلیمی اور فکری پہلوؤں کو بھی شامل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

بلوچوں اور پشتونوں کی روایات مہمان نوازی کی ہیں نہ کہ مہمان کشی کی تو وہ کیسے گوارا کر سکتے ہیں کہ چند فتنہ پرور کے ہاتھوں ان کی صدیوں پہ محیط شاندار روایات کی عکاسی کرتی تاریخ کو تاریک کر دیا جائے۔ ہر ذی شعور نے ان جتھوں کو ہر طرح سے سمجھانے کی کوشش کی کہ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں اور قوم و ملک کا نام بھی اس مسلح کاروائیوں سے بدنام ہو رہا ہے اس سے دنیائے عالم کا اعتماد اور اعتبار دونوں بری طرح اٹھ جائیں گے اور ہماری آنے والی نسلیں تاریک راہوں میں بھٹک جائیں گی۔ مگر جنہوں نے اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہو وطن فروش بن نکلے ہوں اور چند ٹکوں پہ اپنا دین ایمان بیث چکے ہوں تو وہ عزت، غیرت، روایات کی پاسداری سے کوسوں دور ہو جاتے ہِیں ان کے لیے انسانیت کوئی معنی نہیں رکھتی تو وہ یقینی طور پہ دم چھلا بن کے ہر انسانیت سوز قدم اٹھانے میں کوئی کسر نہِیں چھوڑتے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کریڈٹ پہ بم دھماکے، لوٹ مار، بد امنی، قتل و غارت، سرکاری و نجی املاک کو نقصاں پہنچانا، مذہبی مقامات کا تقدس پامال کرنا، تجارتی راستوں پہ رکاوٹیں پیدا کرنا، مسافروں اور معاش کی تلاش میں نکلے مزدوروں کا قتل عام، ترقیاتی امور سے وابستہ ٹرانسپورٹ کو بے دریغ جلانا،  جھوٹ و فریب، منفی پروپیگنڈا کو عام کرنا، خواتین کو تخریب مقاصد کے لیے استعمال کرنا،  غرضیکہ ایسی کونسی برائی رہ گئی ہو جس کے یہ انسانت ک نام پہ داغ جیسا کردار نبھانے والے مرتکب نہ ٹھہرے ہوں۔ اس کے بعد بھی کوئی جواز بنتا ہے کہ ان کو کھلی چھوٹ دی جائے کہ یہ ملک کے قانوں کی دھجیاں اڑائیں اور دندناتے پھر رہے ہوں بھلا کون مہذب ملک ایسی بدمعاشی کو پنپنے کی اجازت دے سکتا ہے اور اپنی نیک نامی کو ایسے ڈوبتا دیکھے۔

جبکہ دوسری جانب ذمہ داران نگہبان وطن روز قربانیاں دے کے ملک کی عزت اور تشخص کو برقرار رکھنے کی جستجو میں واضح دیکھے جا سکتے ہیں۔   ملک کی حفاظت پہ معمور جوان دن رات ایک کر کےپوری جوانمردی کے ساتھ ان دہشت گردوں کے نہ صرف مکروہ عزائم خاک میں ملا رہے ہیں بلکہ ان کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں۔  یہ شاید جانتے  نہیں تھے کہ اس سپاہ کی بہادری اور عظمت کو دنیا جانتی ہے۔ اس آپریشن سے خاطر خواہ نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور جلد ہی یہ دہشت گرد ٹولہ اپنے انجام کو پہنچنے کو ہے۔اب کی بار ےبھاگ نہیں سکیں گے ۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا اس دہشت گردی کی ناسور سے پاک ہو کے رہیں گے۔  آپ  خود اندازہ کریں کہ جو بجٹ ان صوبوں کی ترقی پہ استعمال ہونا تھا اس کا بڑا  حصہ دہشت گردی کے خاتمے پہ لگ رہا ہے اور معیشت کا پہیہ کتنا سست رفتار ہے۔ باوجود اس  سب کے وہاں کی عوام  کا اداروں پہ مکمل بھروسہ قائم ہے بلکہ وہ ہر طرح کا تعاون بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔