انسانیت کی بحالی سے امن عالم تک

صادق و امین، امن کے پیامبر

حجرِ اسود کو کعبہ کی دیوار میں لگانے کا مرحلہ درپیش آیا۔ خدشہ تھا کہ تلواریں نیاموں سے نہ نکل آئیں۔ فیصلہ ہوا کہ جو شخص صبح سب سے پہلے بیت اللہ میں داخل ہوگا، وہی حجرِ اسود کو نصب کرے گا۔ ہوا یوں کہ ایک ہستی صبح نمودار ہوئی۔ اس نے ایک چادر منگوائی، حجرِ اسود اس پر رکھا گیا، تمام قبائل کے نمائندوں کو دعوت دی کہ سب مل کر چادر کو پکڑیں اور حجرِ اسود کو کعبہ کی دیوار میں نصب کر دیں۔ یوں ایک جنگ و جدل کے متوقع ماحول کو نہایت دانائی، حکمت اور شراکت داری کے ذریعے امن میں بدل کر ایک اہم فریضہ سرانجام دے دیا گیا۔

جانتے ہیں شراکت داری کی یہ مثال قائم کرنے والی ہستی کون تھی؟ جناب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ یہ واقعہ بعثتِ نبوی سے قبل کا تھا۔ عرب کی قوم قبائلی عصبیتوں، ہر قسم کے ظلم، ناانصافی اور سرکشی میں دھنسی ہوئی تھی۔ کوئی کسی کو برداشت نہیں کرتا تھا۔ جہالت، ظلم و زیادتی، انسانیت سوز سوچ اور ہر طرح کے جرائم کی لت معاشرے میں جڑ پکڑ چکی تھی۔ مکمل اخلاقی انحطاط کا دور تھا۔ حقوق سلب کرنا طرۂ امتیاز سمجھا جاتا تھا۔ انسانوں کو غلام اور باندیاں بنا کر رکھا جاتا تھا۔ معاشرے کے انتہائی بگاڑ کے اس دور میں رب العالمین نے رحمتُ اللعالمین کو دنیا میں خاتم النبیین بنا کر بھیجا۔

چیلنجز بے پناہ تھے، آوے کا آوا بگڑا پڑا تھا۔ دقیانوسی سوچ اور توہم پرستی معاشرے کو انتہائی گہرے گڑھے میں دھکیلے ہوئے تھی۔ ان حالات میں کوئی بہتری سوچنا اور اس کے لیے کوشش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ لیکن اس سب کے باوجود اس ہستی کو رب نے وہ عظیم مقام عطا فرمایا، جس نے انسانیت کو مقدم جانتے ہوئے معاشرے کی اصلاح کی خاطر بھرپور سعی کا آغاز کر دیا۔لوگوں نے ٹھٹھا اڑایا کہ کیسے یہ سب بدل سکتا ہے، جو کئی نسلوں سے جاری ہے اور ہمارے آباؤ اجداد کا نام اور کام ہے۔ لیکن اگر محنت اور لگن میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ کارفرما ہو تو کسی بھی عظیم مقصد کو پانے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جاتا۔ یہی طرزِ فکر و عمل لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے۔کیا کیا ظلم، صعوبتیں اور اذیتیں نہیں کاٹی گئیں کہ جن کو صفحۂ قرطاس پر اتارنے پر کبھی دماغ ساتھ نہیں دیتا اور کبھی قلم میں جنبش باقی نہیں رہتی۔ قربانیوں کا یہ سلسلہ ان کے وصال کے بعد بھی ان کے خانوادے کے لٹنے تک جاری رہا۔ مقصد نہایت اعلیٰ تھا: انسانیت کی بحالی، اس کی عزت و عظمت پر پہرہ داری، علم و ادب کے خزینے لوٹانا، عظیم انسانی تربیت فراہم کرنا، عدل و انصاف کی قدر و قیمت سے آگاہی دینا۔ دنیا کو جو ریاستِ مدینہ بنا کر دکھائی، آج بھی لوگ فلاحی ریاست کی بات کرتے ہیں تو نگاہ مدینہ کے نظام پر جا کر ٹک جاتی ہے۔

جس میں ہر رنگ و نسل، قبیلہ، امیر و غریب، عربی و عجمی، مرد و عورت، سب کو برابر کے حقوق حاصل تھے۔ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ امن و آشتی کے ساتھ، احترام اور ایک دوسرے کے وجود کو برداشت کرتے ہوئے زندگی گزارتے تھے۔ یہ باہمی رواداری اور بقائے باہمی کی ایک جیتی جاگتی مثال تھی۔ معاشرتی فلاح و بہبود کی خاطر باہمی مشاورت کو پسندیدہ عمل جانا جاتا تھا۔ خود آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو بات بھی کرتے تھے، پہلے خود اس پر عمل کرتے تھے۔ آپ کی سچائی اور ایمانداری کو آپ کے دشمن بھی قدر کی نگاہ سے نہ صرف دیکھتے تھے بلکہ اپنی امانتوں کے حوالے سے سب سے زیادہ محفوظ ٹھکانہ آپ ہی کو سمجھتے اور گردانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو صادق و امین کے لقب سے عرب کے طول و عرض میں نیک شہرت حاصل تھی۔ لوگ انصاف کے معاملے میں بھی فیصلے آپ ہی سے کروانے میں عزت اور خوشی محسوس کرتے تھے، کیونکہ آپ نے ہر قسم کے تفرقے کو جڑ سے نکال پھینکا۔

آپ کی انسانیت کی بحالی کی جستجو کو دنیا آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، جس کی ایک مثال خطبۂ حجۃ الوداع کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کو رہتی دنیا تک ایک نہایت بیش قیمت تحفہ عطا فرمایا۔ آپ نے شدت پسندی اور انسانوں میں خوف و ہراس پھیلانے والی ہر قسم کی سوچ کو کبھی پسند نہیں کیا بلکہ رویوں میں اعتدال لانے کی ہمیشہ حکم اور تلقین فرمائی۔ امن کو ہمیشہ موقع دیا، انسانی حقوق و فرائض پر ہمیشہ زور دیا اور دنیا کے لیے ثابت بھی کیا کہ انسان کی اصل فلاح کیا ہے۔ پڑوسیوں کے حقوق، اولاد کے حقوق و فرائض، عورتوں کے حقوق، غیر مسلموں کے حقوق، معاشی توازن برقرار رکھنے کی خاطر اللہ کے حکم پر صدقات و خیرات اور زکوٰۃ کے نظام کو عام کیا۔ وہ بہترین معلم، باپ، شوہر، سپہ سالار، ایماندار تاجر، مصلح، عالم، عادل حکمران،  بلند اخلاق کے مالک، اپنے پرائے کا دکھ درد بانٹنے والے، انتہا کے ملنسار، سخی اور محبت کو عام کرنے والے، فرض شناس،  پر اثر مبلغ غرضیکہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں بے مثال اور بے نظیر تھے۔ ایسا مکمل رول ماڈل جس میں کسی نقص کا شائبہ تک موجود نہ ہو، اسکی پیروی کرنا دراصل انسانیت کی معراج کو  ہی دیکھنا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی گزارنے کے بہترین نمونے سے عزت بخشی اور آپ کے ذکر کو بلند کر دیا۔ آپ کے مخالفین اور دیگر افراد آپ کی خوبیوں کے معترف آج تک ہیں۔ اسی لیے آپ کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر دنیا کے مختلف علمائے کرام اور اہلِ قلم نے رہتی دنیا تک بہت کچھ لکھا ہے اور بہترین انسانوں کی فہرست بندی میں آپ کو سب سے اوپر رکھا ہے۔ اس سے بڑی کامیابی کیا ہو سکتی ہے کہ جب آپ کا حریف بھی آپ کی راست گوئی، ایمانداری، انسانیت کے پرچار اور ہر زاویے سے بغور جائزہ لینے کے باوجود کوئی کمی یا خامی آج تک نہ نکال پائے۔ آپ کے براہِ راست پیروکاروں کی تعداد اربوں میں ہے، مگر دوسرے لوگ بھی آپ کی معاشرے کی خاطر لائی جانے والی اصلاحات کو مشعلِ راہ سمجھ کر بہترین خدمت سے سرشار زندگی بسر کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ یہ بات ایک حقیقت ہے کہ آپ کی صورت و سیرت کے بے شمار زاویے ہیں، جن کا احاطہ کرنا ناممکن ہے، مگر انسانیت کی قدر و منزلت میں اضافے کی خاطر اٹھائے جانے والے آپ کے ہر قدم کو نہایت محبت اور عقیدت سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسے مکمل انسان کو دیکھ کر دل واقعی کہتا ہے کہ میں اس کا پیروکار بنوں گا، جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا۔ وہ دنیا سے بے شک پردہ فرما گئے ہیں، مگر ان کی احادیث اور سنتیں آج بھی موجود ہیں اور دنیا میں موجود ہر مسئلے کے حل کی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ آپ کے انصاف، عوام کی فلاح و بہبود اور علم کی شمع سے دنیا تاقیامت فیض یاب ہوتی رہے گی۔

اب ایک نظر ان خارجیوں پر ڈالیں جو اسلام کا نام لیتے نہیں تھکتے، مگر اعمال کی جانب دیکھا جائے تو شرم آتی ہے کہ کس طرح سے اسلام کا نام دہشت گردی، بھتہ خوری، جھوٹی خبروں کے پھیلانے، عورتوں اور بچوں کے بے دریغ قتلِ عام، لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچانے، مسافروں کے ذرائع آمد و رفت کی فعالیت میں رکاوٹیں کھڑی کرنے، مساجد کو شہید کرنے، اسکولوں کو تباہ کرنے، ریاست کو بدنام کرنے، ہر طرح کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے، اسلام و پاکستان دشمن عناصر کی جی حضوری کرنے، ان سے پیسے لے کر جہاد کے نام پر فساد برپا کرنے اور نوجوانوں کو فتنہ گری پر اکسانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ وہ اسلام نہیں جو محسنِ انسانیت نے ہم تک ان گنت قربانیاں دے کر پہنچایا۔ کل قیامت کے روز یہی شرپسند عناصر کیا منہ دکھائیں گے اس نبی کو، جس کی امت کی تم لوگوں نے ہر قسم کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں؟ تم لوگوں کو وہ دیکھنا تک پسند نہیں فرمائیں گے۔سچ ہی تو کہتے ہیں دہشت گردی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ صرف ابلیسی خواہشات پہ عمل کر کے لعین امور کی سرانجام  دینے کے سوا کچھ بھی نہیں۔تو برے لوگوں کی ذمہ داری کبھی کوئی نہیں لیتا اس لیے ایسے مکروہ عزائم رکھنے والے کی نہ دنیا میں عزت ہے اور نہ آخرت میں نجات ہے۔

ہمیں فخر ہے کہ دنیا کے عظیم ترین انسان کی نہ صرف ہم پیروی کرتے ہیں بلکہ ان کی شخصیت کے تقریباً ہر پہلو کو اجاگر کرتے ہیں۔ جو اللہ کا بہترین بندہ اور محبوب ہو، اس کے مقام کا اندازہ انسانی دماغ لگانے سے مکمل طور پر قاصر ہے، مگر ان کی عظمت پر ہمیشہ سرِ تسلیم خم ہے۔ تاکہ دنیا ا ور آخرت میں باوقار انسانی معیارات کے تحفظ میں اپنا نہ صرف نام کرنا بلکہ مثالی کامیابی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہی وہ پیغام تھا جسے لانا اور پھیلانا مقصود تھا امن کے پیامبر کے ہاتھوں۔