ڈیجیٹل دور میں پاکستان کی بدلتی ہوئی داخلی سلامتی کی صورتحال پاکستان کی داخلی سلامتی کی صورتحال ایک ایسے پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سوشل میڈیا کا اثر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اب سکیورٹی کے خطرات صرف میدانِ جنگ، سرحدی علاقوں یا دور دراز عسکریت پسند ٹھکانوں تک محدود نہیں رہے، […]
ڈیجیٹل دور میں پاکستان کی بدلتی ہوئی داخلی سلامتی کی صورتحال
پاکستان کی داخلی سلامتی کی صورتحال ایک ایسے پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سوشل میڈیا کا اثر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اب سکیورٹی کے خطرات صرف میدانِ جنگ، سرحدی علاقوں یا دور دراز عسکریت پسند ٹھکانوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ ڈیجیٹل دنیا تک بھی پھیل چکے ہیں۔ ایک جعلی تصویر، پرانی ویڈیو، گمراہ کن سرخی یا غیر مصدقہ اطلاع چند ہی منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے اور اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ صورتِ حال اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب خیبر پختونخوا اور بلوچستان بدستور سنگین نوعیت کے تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (CRSS) کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران پاکستان میں تشدد سے ہونے والی ہلاکتوں میں تقریباً 96 فیصد انہی دونوں صوبوں میں ہوئیں۔ اگست میں سوات میں ہونے والا حملہ، جس میں پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی جانیں گئیں، ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ملک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک مسلسل اور بدلتے ہوئے خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔تاہم، زمینی سطح پر جاری تشدد کے ساتھ ساتھ ایک اور محاذ بھی کھل چکا ہے، اور وہ ہے معلومات اور بیانیے کی جنگ۔ دہشت گرد تنظیمیں اور ان کے حامی اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ خوف پیدا کرنے کے لیے اب صرف کسی پولیس اسٹیشن، فوجی چوکی یا عوامی اجتماع کو نشانہ بنانا کافی نہیں۔ کسی بھی حملے کو سوشل میڈیا کے ذریعے اس انداز میں پھیلایا جا سکتا ہے کہ لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہو کہ ریاست اپنا کنٹرول کھو چکی ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے قابل نہیں، یا ملک میں ہر طرف تشدد ہی تشدد ہے، خواہ زمینی حقیقت اس سے کہیں مختلف ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جعلی خبریں محض ایک معمولی مسئلہ نہیں رہتیں بلکہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ کسی حملے سے متعلق جھوٹا دعویٰ، پرانی تصویر کو حالیہ واقعے سے جوڑنا، تبدیل شدہ ویڈیو یا ہلاکتوں کے بارے میں غلط اطلاع لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کر سکتی ہے، ریاستی اداروں پر اعتماد کو کمزور کر سکتی ہے اور شہریوں اور ریاست کے درمیان بداعتمادی کو بڑھا سکتی ہے۔ پاکستان میں غلط معلومات کے پھیلاؤ پر ہونے والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جذباتی اپیلیں، سازشی بیانیے، سیاسی تقسیم، حقائق میں تحریف اور معتبر ذرائع کی نقالی جیسے طریقے جھوٹی معلومات کو بظاہر قابلِ اعتماد بنا دیتے ہیں۔سکیورٹی کے کسی واقعے کے دوران یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ کسی حملے کے فوراً بعد معلومات اکثر نامکمل اور منتشر ہوتی ہیں۔ حکام کو ممکن ہے کہ ابھی ہلاکتوں کی درست تعداد، حملہ آوروں کی شناخت یا واقعے کی مکمل تفصیلات معلوم نہ ہوں۔
دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین کو چند ہی منٹوں میں ایک ہی واقعے کے بارے میں درجنوں مختلف دعوے نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں پہلے خبر شیئر کرنے اور بعد میں اس کی تصدیق کرنے کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔ اس رویے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک ذمہ دار سوشل میڈیا صارف صرف غیر مصدقہ معلومات آگے نہ بڑھا کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اہم معاون بن سکتا ہے۔ کسی سنسنی خیز دعوے کو شیئر کرنے سے پہلے تین بنیادی سوال ضرور پوچھنے چاہییں: یہ اطلاع سب سے پہلے کس نے دی؟ کیا کسی آزاد اور معتبر ذریعے نے اس کی تصدیق کی ہے؟ کیا یہ معلومات تازہ اور مستند ہیں؟ بظاہر سادہ نظر آنے والی یہ احتیاط قومی سطح پر بہت بڑا مثبت اثر پیدا کر سکتی ہے۔ سوشل میڈیا کو صرف ایک خطرے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ پاکستان کے وسیع تر عوامی تحفظ کے نظام کا ایک اہم حصہ بن سکتا ہے۔ لاکھوں پاکستانیوں کے پاس اسمارٹ فونز، کیمرے اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک رسائی ہے۔ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دے سکتے ہیں، حقیقی سکیورٹی خطرات سے دوسروں کو آگاہ کر سکتے ہیں، جعلی مواد کی نشاندہی کر سکتے ہیں، درست معلومات پھیلا سکتے ہیں اور افواہوں کو خوف و ہراس میں تبدیل ہونے سے روکنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم، شہریوں کا کردار ہر سرکاری دعوے کی بغیر سوچے سمجھے حمایت کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ ریاست کی حمایت کا مطلب تنقیدی سوچ کو ترک کرنا نہیں ہے۔ ایک مضبوط ریاست جائز سوالات، تنقید اور نگرانی کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی طرح ذمہ دار شہریوں کو حکومت کی پالیسیوں یا سکیورٹی اداروں پر جائز تنقید اور ایسی دانستہ جعلی معلومات کے درمیان فرق کرنا چاہیے جن کا مقصد خوف، نفرت یا عدم استحکام پیدا کرنا ہو۔ یہ فرق برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں معلومات اور بیانیے کی جنگ اس لیے بھی حساس ہے کہ وہاں حقیقی عوامی شکایات اور سکیورٹی کے مسائل کے ساتھ ساتھ عسکریت پسند تشدد اور مختلف متضاد بیانیے بھی موجود ہیں۔ پائیدار امن صرف اس بنیاد پر قائم نہیں ہو سکتا کہ ہر مخالف رائے یا بیانیے کو جھوٹ قرار دے دیا جائے۔ اسی طرح پاکستان یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ دہشت گرد تنظیمیں حقیقی عوامی مسائل اور شکایات کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کریں، عوامی جذبات کو گمراہ کریں اور تشدد کو سیاسی مقاصد کے حصول کا جائز ذریعہ بنا کر پیش کریں۔ اس صورتحال کا راستہ معتبر معلومات، شفافیت، مؤثر ابلاغ اور ذمہ دارانہ شہری کردار سے نکلتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار بھی اس سلسلے میں انتہائی اہم ہے۔ جب حکام بروقت، درست اور قابلِ تصدیق معلومات فراہم کرتے ہیں تو افواہوں کے لیے جگہ کم ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس معلومات میں تاخیر اور خلا پیدا ہونے کی صورت میں سوشل میڈیا اس خلا کو بہت تیزی سے پُر کر دیتا ہے۔ اس لیے سرکاری اداروں کو ایسے مؤثر ابلاغی نظام کی ضرورت ہے جو غلط اطلاعات کی فوری وضاحت کر سکیں، لیکن اس عمل میں جائز اختلافِ رائے اور آزادانہ بحث کو غیر ضروری طور پر محدود نہ کیا جائے۔
شہری بھی اس کوشش میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ مصدقہ معلومات کے لیے سرکاری اور معتبر ذرائع کو ترجیح دیں، مشکوک مواد کی نشاندہی اور رپورٹ کریں، غیر مصدقہ اطلاعات آگے بھیجنے سے گریز کریں اور اپنے سماجی حلقوں میں غلط معلومات کی ذمہ داری کے ساتھ نشاندہی کریں۔ واٹس ایپ گروپ، فیس بک پیج، ٹک ٹاک اکاؤنٹ، یوٹیوب چینل یا ایکس پروفائل بظاہر ایک چھوٹا ذریعہ محسوس ہو سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر یہی پلیٹ فارمز ملک کے سب سے بااثر معلوماتی ماحول کی تشکیل کرتے ہیں۔ ایک اور اہم ذمہ داری یہ ہے کہ دہشت گردی کے پروپیگنڈے کو پھیلایا نہ جائے، حتیٰ کہ اس کی مذمت کرنے کے لیے بھی نہیں۔ گرافک مناظر، عسکریت پسندوں کے بیانات یا پروپیگنڈا مواد شیئر کرنے سے نادانستہ طور پر دہشت گرد تنظیموں کو مزید تشہیر اور وسیع رسائی مل سکتی ہے۔ ذمہ دار صارفین کو ایسے مواد کو آگے پھیلانے کے بجائے متعلقہ پلیٹ فارم پر رپورٹ کرنا چاہیے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو روایتی طور پر فوج، پولیس، انٹیلی جنس اداروں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی قربانیوں اور کوششوں کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے۔ یہ ادارے آج بھی صفِ اول میں موجود ہیں اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران بے شمار قربانیاں دے رہے ہیں۔ لیکن ڈیجیٹل دور میں قومی سلامتی کا ایک شہری محاذ بھی وجود میں آ چکا ہے، اور یہ محاذ ہمارے موبائل فونز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے تشکیل پا رہا ہے۔ ہر شہری کے سامنے ایک انتخاب ہے۔ ہم اپنی اسکرینوں پر آنے والی ہر خبر کے غیر فعال صارف بن سکتے ہیں، یا ملک کے معلوماتی ماحول میں ذمہ دار کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہم افواہ آگے بڑھانے کے بجائے اسے روک سکتے ہیں۔ ہم خوف پھیلانے کے بجائے لوگوں کو درست معلومات اور اطمینان فراہم کر سکتے ہیں۔ ہم نادانستہ طور پر دہشت گرد بیانیوں کو تقویت دینے کے بجائے جھوٹ اور پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں پائیدار امن صرف سکیورٹی آپریشنز کے ذریعے ممکن نہیں ہوگا۔ اس کے لیے شہریوں اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد، ترقی، انصاف، سیاسی شمولیت اور حقیقی عوامی شکایات کے ازالے کے لیے سنجیدہ اقدامات بھی ضروری ہیں۔ تاہم، معلومات کے ذمہ دارانہ استعمال اور درست معلومات کے فروغ سے اس وسیع تر امن کی کوشش میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔
© 2026 PPN - پرامن پاکستان نیٹ ورک