تخریب کاروں کے سبز باغ

سرزمینِ بلوچستان قدرتی اور مصنوعی آفات کا شکار رہی ہے، مگر یہاں کا بلوچ نہ کبھی گھبرایا اور نہ ہی کسی موقع پر لڑکھڑایا، بلکہ ہر آزمائش کے بعد مزید نکھر کر سامنے آیا۔ اس کی بنیادی وجہ اپنی دھرتی سے وفاداری، اپنی مٹی سے غیر متزلزل محبت اور اپنے رہن سہن پر فخر ہے، جس نے اسے کبھی مایوس نہیں ہونے دیا۔ یہ محض جذباتی باتیں نہیں بلکہ مسلسل چلتی تاریخ اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے۔ اپنے ارادوں میں مضبوط، اپنی بلوچ اقدار کا محافظ اور محبت تقسیم کرنے والا شخص کبھی غیر انسانی رویوں اور تخریب کاری کو اپنا جینا مرنا نہیں بناتا۔ وہ چند ٹکڑوں کے عوض اپنی دھرتی کا سودا نہیں کرتا بلکہ اپنی سرزمین اور اس کے وقار کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو نہ صرف تیار رہتا ہے بلکہ اس کا عملی نمونہ بھی پیش کرتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی عزت ہر کوئی کرتا ہے۔ لیکن اسی شناخت کو سبوتاژ کرنے کی خاطر چند بگڑے ہوئے عناصر اور دغاباز، اسلام، پاکستان اور بلوچستان مخالف جتھے بنا کر ہر غیر اسلامی، غیر قانونی اور بلوچ اقدار کے منافی سرگرمی کے ذریعے اس سرزمین کو ہر طرح کا نقصان پہنچانے پر تلے نظر آتے ہیں۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارت اور دیگر پاکستان مخالف عناصر ان دہشت گرد عناصر کو مختلف طریقوں سے معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے شواہد اور ثبوت مختلف عالمی پلیٹ فارمز پر پیش کیے جا چکے ہیں، جبکہ بعض بیرونی ممالک اور اداروں کی جانب سے بھی بعض بلوچ مسلح تنظیموں کو دہشت گرد تنظیموں یا عناصر کے طور پر قرار دیا گیا ہے۔ ان گروہوں کے ناموں میں بلوچ شناخت کا حوالہ ضرور ملتا ہے، جیسے بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ اور بلوچ ریپبلکن گارڈ وغیرہ، تاہم ان کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ ان تنظیموں کی سرگرمیاں بلوچ عوام کی حقیقی ضروریات، امن اور ترقی کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ ان کے بعض سرکردہ افراد کا طرزِ زندگی اور طرزِ عمل بھی عام بلوچ معاشرتی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔

بلوچستان کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ شور اور حقیقت میں فرق کیا جائے۔ کسی بھی معاشرے میں محرومیوں، انتظامی مسائل، معاشی مشکلات یا ترقی کی رفتار سے متعلق شکایات کا ہونا ایک فطری امر ہے، لیکن ان مسائل کا حل تشدد، تخریب کاری، اغوا، شہریوں کو خوف زدہ کرنے یا ریاستی و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے میں نہیں۔ اختلافِ رائے ہر معاشرے کا حصہ ہے اور جمہوری نظام میں عوام کو اپنی بات پرامن اور آئینی طریقے سے رکھنے کا حق حاصل ہے۔ بلوچستان کے عوام کے حقیقی مسائل پر بات ہونی چاہیے،  دوسری جانب ان کے حل کے لیے مؤثر پالیسیاں بن رہی ہیں اور ریاستی اداروں، سیاسی قیادت، نوجوانوں، قبائلی عمائدین، علما، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے درمیان مسلسل مکالمہے کا دور چل رہا ہے۔ یہی راستہ عوامی اعتماد کو مضبوط کرتا ہے اور ان عناصر کے لیے جگہ کم کرتا ہے جو عوامی مسائل کو اپنے پرتشدد مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے جعلی پروپیگنڈا پھیلانا، جعلی اکاؤنٹس بنانا، بیرونی معاونت حاصل کرنا، معصوم انسانی جانوں کا ضیاع، بم دھماکے، سرکاری و غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملے، مسافروں کو نشانہ بنانا، بلوچستان میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کو سبوتاژ کرنا اور نوجوان نسل کو گمراہ کرکے دہشت گردی و منافرت کی طرف دھکیلنا—یہ وہ اقدامات ہیں جو اس خطے کے امن اور ترقی کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔ جس ملک کے وسائل سے استفادہ کیا جائے، جس کی شہریت اختیار کی جائے اور جس ملک کی شناخت دنیا کے سامنے پیش کی جائے، اسی کے خلاف نفرت اور تشدد کو فروغ دینا کسی بھی طور قابلِ قبول طرزِ عمل نہیں۔

ان تمام معاملات کو دیکھتے ہوئے بھلا ایسے عناصر کو کھلی چھوٹ کون دے سکتا ہے؟ اپنے گھر کو محفوظ رکھنا ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ امن کے قیام کے لیے عوام نے اپنے منتخب نمائندوں اور ریاستی اداروں کو مینڈیٹ دیا ہے۔ اسی مقصد کے تحت مختلف سطحوں پر ریاستی کارروائیاں جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گرد عناصر کے خلاف صف آرا ہیں۔ وہ قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور اپنے فرائض سے پیچھے نہیں ہٹ رہے۔ دوسری طرف دہشت گرد عناصر نئے سے نئے سبز باغ دکھا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی نام نہاد ریاست کے قیام کا خواب دکھایا جاتا ہے، کبھی اپنے تربیت یافتہ مجرموں کو خود ساختہ طور پر لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، کبھی الگ ریاست کا فریب دیا جاتا ہے اور کبھی نام نہاد دفاتر، الگ پاسپورٹ اور دیگر خیالی منصوبوں کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان بھی ترقی، امن اور خوشحالی کا خواہاں ہے اور پاکستان کے لیے روزِ اول سے خدمات انجام دیتا آیا ہے۔ بلوچستان کے بزرگوں کی وفاداری، نیک نامی اور دوراندیشی نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ وابستگی کو مضبوط رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد عناصر کی جانب سے پیش کیے جانے والے منفی بیانیے کو عوامی سطح پر قبولیت حاصل نہیں ہو سکی۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: ان گروہوں نے بلوچستان اور بلوچ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے آخر کیا کیا ہے؟ کیا انہوں نے تعلیم، صحت، روزگار، انفراسٹرکچر یا عوامی بہبود کے لیے کوئی قابلِ ذکر اور تعمیری کام کیا ہے؟ اگر زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو ان کی سرگرمیوں کا بڑا حصہ تشدد، خوف، تباہی اور عدم استحکام کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔ ایسے میں ان کے دعووں پر اعتماد کیسے کیا جا سکتا ہے؟ کوئی میگزین شائع کرنا یا سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرنا اس وقت بے معنی ہو جاتا ہے جب عملی سرگرمیاں عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کے بجائے خوف اور تباہی کا باعث بنیں۔ بلوچستان کے عوام بھی دیگر پاکستانیوں کی طرح امن، ترقی، محبت اور اپنی آئندہ نسلوں کے روشن مستقبل کے خواہاں ہیں۔ وہ اپنی نسلوں کو تباہی اور گمراہی کی دلدل میں دھکیلنے کے بجائے تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع دیکھنا چاہتے ہیں۔

مزید برآں، دہشت گرد عناصر کے مختلف گروہوں کے درمیان مبینہ روابط اور اشتراکِ عمل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ان کی سرگرمیوں کا مقصد محض کسی ایک علاقے یا مسئلے تک محدود نہیں بلکہ امن و امان کو متاثر کرنا بھی ہے۔ اگر کوئی گروہ تشدد، دہشت گردی اور شہریوں کے عدم تحفظ کو اپنے مقاصد کے حصول کا ذریعہ بناتا ہے تو اس کے دعووں کو عوامی فلاح کے پیمانے پر پرکھنا ضروری ہے۔ اسی لیے یہ بات اہم ہے کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قوم یا علاقے کی نمائندگی کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔ دہشت گردی ایک مجرمانہ اور تباہ کن عمل ہے، جس کا سب سے بڑا نقصان خود عام شہریوں، نوجوانوں، خاندانوں اور معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ریاستی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار ان سازشوں اور خطرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کارروائیوں میں متعدد اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ ان کی قربانیاں اس عزم کی عکاس ہیں کہ پاکستان میں امن، قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔

بلوچستان کا مستقبل خوف، تشدد اور تخریب کاری میں نہیں بلکہ امن، تعلیم، ترقی، روزگار، قانون کی بالادستی اور قومی یکجہتی میں ہے۔ بلوچستان کے مستقبل کا فیصلہ بندوق، دھماکے یا سوشل میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈے سے نہیں بلکہ وہاں کے عوام کی امن، عزت، ترقی اور خوشحالی کی خواہش سے ہونا چاہیے۔ جو قوتیں بلوچستان کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں، ان کے مقابلے میں سب سے مضبوط جواب ایک ایسا بلوچستان ہے جہاں شہری خود کو محفوظ سمجھیں، نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں پُرامید ہوں، اختلاف کو مکالمے سے حل کیا جائے اور ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو دہشت گردی کے سبز باغوں اور خوشحال بلوچستان کے حقیقی خواب کے درمیان واضح فرق پیدا کرتی ہے۔

نوجوان نسل اس معاملے میں سب سے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور ان کی سوچ، تعلیم اور صلاحیتیں آنے والی دہائیوں کی سمت متعین کرتی ہیں۔ اگر نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار، کھیل، ثقافت، تحقیق اور تخلیقی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے جائیں تو ان کی توانائیاں تعمیری راستے پر صرف ہوں گی۔ اس کے برعکس جب سوشل میڈیا پر جھوٹی معلومات، جذباتی نعروں، نفرت انگیز مواد اور تشدد کو بہادری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو کم عمر اور ناتجربہ کار ذہن آسانی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں میں میڈیا لٹریسی، تنقیدی سوچ اور آن لائن معلومات کی جانچ کی صلاحیت پیدا کی جائے تاکہ وہ ہر وائرل پیغام کو حقیقت سمجھنے کے بجائے اس کے ماخذ، مقصد اور شواہد کو پرکھ سکیں۔بلوچستان کی ثقافت، زبانیں، روایات، موسیقی، ادب، دستکاری اور قبائلی اقدار اس خطے کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان مثبت شناختوں پر جب نوجوان فخر کرتے ہوئے جدید تعلیم اور قومی ترقی کے عمل میں شریک ہوتے ہیں تو ان کے سامنے مستقبل کے مثبت راستے واضح ہوتے ہیں۔ اسی طرح مقامی دانشوروں، اساتذہ، صحافیوں، مذہبی رہنماؤں، فنکاروں اور سماجی کارکنوں کو بھی امن، برداشت، قانون کی پاسداری اور باہمی احترام کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔