خون میں نہائے ہوئے جسموں سے پوچھو
اس زمیں پہ جان لٹانے کا مزہ کیا ہے!
کسی قوم کی تاریخ صرف تاریخوں، معرکوں اور فتح و شکست کے واقعات سے نہیں بنتی، بلکہ اُن انسانوں کے کردار سے تشکیل پاتی ہے جو مشکل ترین لمحے میں اپنی ذات سے بلند ہوکر اجتماعی ذمہ داری کا انتخاب کرتے ہیں۔ قومیں اُن لوگوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں جو اپنے آج کو دوسروں کے کل کے لیے قربان کردیتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ بھی ایسے ہی کرداروں سے عبارت ہے۔ یہ سرزمین اُن لوگوں کی امانت ہے جنہوں نے اس کے قیام کے لیے گھر بار چھوڑے، جان و مال کی قربانیاں دیں اور آزادی ملنے کے بعد اس کے دفاع کو اپنی ذمہ داری سمجھا۔ پاکستان کا قیام جدوجہد کا اختتام نہیں تھا بلکہ ایک نئے سفر کا آغاز تھا۔ آزادی حاصل کرنا ایک مرحلہ تھا، اسے محفوظ رکھنا اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا مسلسل ذمہ داری بن گیا۔
حق کے لیے قربانی کی روایت ہماری تاریخ کا نیا تصور نہیں۔ کربلا ہمیں اصول، استقامت اور حق پر ثابت قدمی کا درس دیتی ہے، تحریکِ پاکستان اجتماعی جدوجہد اور آزادی کی قیمت سمجھاتی ہے، جبکہ قیامِ پاکستان کے بعد کے معرکے یہ حقیقت واضح کرتے ہیں کہ حاصل کی ہوئی آزادی کی حفاظت بھی ایثار اور قربانی مانگتی ہے۔ 1948ء سے مختلف ادوار میں پاکستان کو سرحدی کشیدگی، جنگوں اور سلامتی کے چیلنجز کا سامنا رہا۔ ہر آزمائش نے قوم سے یہی تقاضا کیا کہ وہ اپنے وطن کے دفاع کے لیے متحد رہے۔ ایک نسل نے ذمہ داری اٹھائی تو دوسری نے اسے آگے بڑھایا۔ کسی بھائی نے جان دی تو دوسرے نے فرض سنبھال لیا، کسی باپ نے وطن کے لیے قربانی دی تو بیٹے نے اسی جذبے کو اپنی میراث سمجھا۔ یوں قربانی محض ایک واقعہ نہیں رہی بلکہ قومی کردار کا حصہ بنتی گئی۔ 6 ستمبر 1965ء اسی قومی کردار کا ایک روشن باب ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان کی سرحدوں پر ایک بڑا چیلنج سامنے آیا اور قوم نے اپنے محافظوں کے ساتھ ایسا مضبوط رشتہ قائم کیا کہ دشمن کو اندازہ ہوگیا کہ وہ صرف ایک فوج نہیں بلکہ ایک متحد قوم کے عزم کا سامنا کررہا ہے۔ اس دن کی اہمیت صرف میدانِ جنگ میں ہونے والے واقعات تک محدود نہیں۔ اس داستان کا ایک رخ سرحد پر تھا اور دوسرا اُن گھروں میں جہاں مائیں دعائیں کررہی تھیں، باپ اپنے بیٹوں کی خیر چاہتے تھے، بہنیں بھائیوں کی واپسی کی منتظر تھیں اور بیویاں اپنے شریکِ حیات کی سلامتی کے لیے فکر مند تھیں۔ جنگ کا ایک محاذ سرحد پر ہوتا ہے، دوسرا گھر کی دہلیز پر، جہاں انتظار، تشویش اور دعا ایک ساتھ زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔
جوانی انسان کے پاس موجود سب سے قیمتی اثاثوں میں سے ایک ہے۔ یہی وہ عمر ہے جب آنکھوں میں مستقبل کے خواب، دل میں خواہشیں اور زندگی کے لیے بے شمار منصوبے ہوتے ہیں۔ کوئی تعلیم مکمل کرنا چاہتا ہے، کوئی اپنے والدین کا سہارا بننے کا خواب دیکھتا ہے، کوئی گھر بسانے اور اپنی اولاد کے روشن مستقبل کی فکر کرتا ہے۔ مگر جب وطن کی حفاظت کا سوال سامنے آتا ہے تو کچھ لوگ اپنے ذاتی خوابوں کو ایک بڑے مقصد کے تابع کردیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ محاذ آسان جگہ نہیں، واپسی یقینی نہیں، مگر پھر بھی قدم آگے بڑھاتے ہیں۔ ان کے سامنے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہوتی؛ ان کے پیشِ نظر صرف وطن کی سلامتی اور اُن کروڑوں انسانوں کا مستقبل ہوتا ہے جن کی زندگیاں اس سرزمین سے وابستہ ہیں۔ یہی ایثار ایک عام انسان کو تاریخ کا کردار بنا دیتا ہے۔1965ء میں محاذ پر سپاہی اپنا فرض نبھا رہا تھا، مگر اُس کے پیچھے پوری قوم کھڑی تھی۔ شہروں میں لوگ خبروں کے منتظر تھے، گھروں میں دعائیں ہورہی تھیں اور ہر دل میں وطن کی سلامتی کی فکر تھی۔ سپاہی جانتا تھا کہ اس کے پیچھے صرف اس کا خاندان نہیں بلکہ ایک پوری قوم موجود ہے، جبکہ عوام یہ جانتے تھے کہ سرحد پر کھڑا جوان دراصل اُن کے گھروں، اُن کے بچوں اور اُن کے مستقبل کی حفاظت کررہا ہے۔ اُس وقت قومی یکجہتی محض ایک نعرہ نہیں رہی تھی بلکہ ایک عملی حقیقت بن چکی تھی۔ یہی وہ جذبہ تھا جس نے 6 ستمبر کو قومی حافظے میں ایک مستقل مقام عطا کیا۔
جنگ ختم ہوجاتی ہے، مگر بعض گھروں میں اس کے اثرات ختم نہیں ہوتے۔ ایک ماں اپنے بیٹے کی راہ دیکھتے دیکھتے عمر گزار دیتی ہے، ایک باپ کے لیے جوان بیٹے کی جدائی بڑھاپے کا بڑا امتحان بن جاتی ہے، ایک بیوی کے لیے شریکِ حیات کی کمی زندگی بھر ساتھ رہتی ہے اور ایک بچہ بڑا ہوجاتا ہے مگر باپ کی تصویر اس کی یادوں کا مستقل حصہ بنی رہتی ہے۔ کسی شہید کا آخری سفر مختصر ہوسکتا ہے، مگر اُس کے خاندان کی جدائی ایک طویل داستان بن جاتی ہے۔ اسی لیے شہداء کو خراج پیش کرتے ہوئے اُن خاندانوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے اپنے پیارے وطن کے نام کردیے۔ کسی نے اپنا سہاگ کھویا، کسی نے بھائی، کسی نے باپ اور کسی نے اپنے بڑھاپے کا سہارا۔ ان خاندانوں کی خاموش استقامت بھی قومی قربانی کی اسی داستان کا حصہ ہے۔
شہادت کی پوری حقیقت انسانی شعور شاید کبھی مکمل طور پر بیان نہ کرسکے۔ ایمان رکھنے والے کے لیے یہ یقین کافی ہے کہ اللہ کی راہ میں جان دینے والے اُس کے ہاں زندہ ہیں۔ شہید کی عظمت صرف اس میں نہیں کہ اُس نے اپنی جان دی؛ اصل عظمت یہ ہے کہ اُس نے اپنی سب سے قیمتی متاع ایک ایسے مقصد کے لیے پیش کردی جس کا فائدہ آنے والی نسلوں کو پہنچنا تھا۔ وہ شاید اُن لوگوں کو جانتا بھی نہ تھا جو مستقبل میں اس ملک میں پیدا ہونے والے تھے، مگر اُس نے اپنے آج کو اُن کے کل کے لیے وقف کردیا۔ یہی ایثار انسان کو اپنی ذات سے بلند کردیتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ انسانیت کو پامال کرتے، بے گناہوں کو خوف زدہ کرتے اور معاشروں میں نفرت پھیلاتے ہیں، وہ وقتی دہشت تو پیدا کرسکتے ہیں مگر تاریخ میں عزت حاصل نہیں کرسکتے۔ عظمت اُن کرداروں کا مقدر بنتی ہے جو دوسروں کے حقِ زندگی، امن اور آزادی کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ پاکستان صرف زمین کا نام نہیں بلکہ ہماری شناخت، ہماری مشترکہ امید اور آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔ اس کی طاقت اس کے جغرافیے کے ساتھ ساتھ اُن لوگوں میں بھی ہے جو مختلف زبانوں، ثقافتوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک قومی شناخت میں جڑے ہوئے ہیں۔ وطن کا دفاع صرف سرحد پر کھڑے سپاہی کی ذمہ داری نہیں۔ ایک طالب علم علم حاصل کرکے ملک کو مضبوط کرتا ہے، استاد نئی نسل کی کردار سازی کرتا ہے، سائنس دان تحقیق کے ذریعے خود انحصاری کی بنیاد رکھتا ہے، صحافی ذمہ دارانہ ابلاغ کے ذریعے معاشرے کو انتشار سے بچانے میں کردار ادا کرتا ہے، سرکاری اہلکار دیانت داری سے ریاست پر اعتماد بڑھاتا ہے اور عام شہری قانون کی پاسداری، برداشت اور ذمہ داری کے ذریعے معاشرے کو مضبوط بناتا ہے۔ سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے، مگر قوم کے کردار کی حفاظت بھی اسی قدر اہم ہے۔1965ء کے بعد وقت بدلتا رہا، جنگ کے طریقے تبدیل ہوئے، ٹیکنالوجی نے دفاع کی نوعیت بدل دی اور خطرات کی شکلیں بھی تبدیل ہوتی رہیں، مگر پاکستان کے دفاعی عزم کی بنیادی روح برقرار رہی۔ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ نے ایک نیا اور پیچیدہ محاذ کھولا، جہاں مسلح افواج کے ساتھ عام شہریوں نے بھی بھاری قربانیاں دیں۔ دشمن ہمیشہ وردی میں سامنے نہیں آتا تھا، اس لیے قومی سلامتی کا تصور بھی سرحدوں سے آگے بڑھ کر معاشرے کے امن، استحکام اور باہمی اعتماد تک پھیل گیا۔ اس تجربے نے واضح کیا کہ جدید دور میں ملک کی حفاظت صرف سرحدوں کی نگرانی سے مکمل نہیں ہوتی بلکہ معاشرے کو اندر سے مضبوط رکھنا بھی ضروری ہے۔
اسی تاریخی تسلسل میں بنیان المرصوص بھی معاصر دفاعی تاریخ کا ایک حوالہ ہے۔ اس پورے سفر کو محض جنگی واقعات کی فہرست سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اس کے اندر ایک بنیادی تصور مسلسل موجود رہا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی وقار کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ وقت کے ساتھ ہتھیار تبدیل ہوسکتے ہیں، حکمتِ عملی نئے تقاضوں کے مطابق ڈھل سکتی ہے اور میدانِ جنگ کی نوعیت بدل سکتی ہے، مگر وطن کے دفاع کی ذمہ داری اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔ 1965ء کی قومی یکجہتی سے لے کر بعد کے مختلف چیلنجز تک یہ سفر ہمیں بتاتا ہے کہ مضبوط دفاع کے ساتھ مضبوط قوم بھی ضروری ہے۔ اسی لیے 6 ستمبر صرف ماضی پر فخر کرنے کا دن نہیں بلکہ خود احتسابی اور تجدیدِ عہد کا موقع بھی ہے۔ اگر شہداء نے پاکستان کے لیے اپنی جانیں دیں تو ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس ملک کو اندر سے مضبوط کریں۔ ایسا پاکستان جہاں قانون کی بالادستی ہو، اختلاف دشمنی نہ بنے، نوجوان مایوسی کے بجائے امکانات دیکھیں، علم اور تحقیق کو قومی طاقت سمجھا جائے اور مختلف علاقوں، زبانوں اور طبقوں کے درمیان اتحاد قائم رہے۔ شہداء کو خراج صرف پھول چڑھانے یا تقریر کرنے سے مکمل نہیں ہوتا؛ اُن کے خوابوں کا احترام تب ہوگا جب ہم اپنے اپنے میدان میں دیانت داری سے کام کریں اور ملک کو بہتر بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔
جب سبز ہلالی پرچم ہوا میں لہراتا ہے تو ہمیں اُس کے پیچھے موجود تاریخ بھی یاد رکھنی چاہیے۔ اس میں تحریکِ پاکستان کی جدوجہد، ہجرتوں کے دکھ، سرحدوں کے محافظوں کا عزم، دہشت گردی کے خلاف قربانیاں اور اُن خاندانوں کا صبر شامل ہے جنہوں نے اپنے پیارے وطن کے لیے پیش کیے۔ یہ پرچم ہمیں ماضی کا فخر ہی نہیں دیتا بلکہ مستقبل کی ذمہ داری بھی یاد دلاتا ہے۔ ہم اُن شہداء کو زندگی واپس نہیں دے سکتے، اُن ماؤں کو اُن کے بیٹے نہیں لوٹا سکتے اور اُن بچوں کو اُن کے باپ نہیں دے سکتے، مگر ہم اُن کے دیے ہوئے وطن کو مضبوط ضرور بنا سکتے ہیں۔ ہم علم کو اپنی طاقت، کردار کو اپنی پہچان، اتحاد کو اپنی قوت اور امن کو اپنی ترجیح بنا سکتے ہیں۔ یہی اُن لوگوں کی قربانی کا حقیقی احترام ہوگا جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین ایام پاکستان کے لیے وقف کردیے۔ اُنہوں نے اپنا آج دے کر ہمیں اپنا کل دیا؛ اب اُس کل کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔
6 ستمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتتیں؛ وہ اپنے اتحاد، کردار، قربانی اور ذمہ داری سے تاریخ میں زندہ رہتی ہیں۔ آج ہم اُن تمام شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، اُن غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے مشکل ترین حالات میں حوصلہ برقرار رکھا، اُن محافظوں کو سلام کرتے ہیں جو آج بھی اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور اُن خاندانوں کے سامنے سر جھکاتے ہیں جن کی قربانیاں ہماری آزادی کی قیمت بنیں۔ یہ وطن اُن کی امانت ہے۔ اس کی حفاظت صرف سرحد پر نہیں بلکہ ہمارے کردار، ہماری سوچ اور ہماری اجتماعی ذمہ داری میں بھی ہونی چاہیے۔ جب ہم ایک مضبوط، پُرامن، باوقار اور متحد پاکستان کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں تو دراصل اُن قربانیوں کا جواب دیتے ہیں جنہوں نے ہمیں یہ وطن دیا۔
سلام شہداء، سلام غازیوں، سلام محافظوں اور سلام اُن خاندانوں کو جنہوں نے پاکستان کے لیے اپنے پیارے قربان کیے۔
پاکستان زندہ باد۔
© 2026 PPN - پرامن پاکستان نیٹ ورک