علم کی روشنی، انتہا پسندی کے اندھیروں کا خاتمہ

بین الاقوامی یومِ خواندگی 2026ء:  لوگوں، کرۂ ارض اور خوش حالی کے لیے خواندگی

 

خواندگی صرف حروف پہچان لینے، الفاظ پڑھ لینے یا اپنا نام لکھ لینے کا نام نہیں؛ یہ دراصل انسان کے اندر وہ چراغ روشن کرنے کا عمل ہے جس کی روشنی میں وہ اپنے آپ کو، اپنے معاشرے کو اور اپنے زمانے کو سمجھنے کے قابل ہوتا ہے۔ کتاب پڑھ لینا خواندگی کی ابتدا ہے، مگر زندگی کو پڑھ لینا اس کی معراج۔ حقیقی خواندہ انسان صرف الفاظ نہیں پڑھتا، وہ حالات کے معنی پڑھتا ہے، نعروں کے پیچھے چھپے مقاصد کو پہچانتا ہے، خبر اور افواہ میں فرق کرتا ہے، اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھتا اور اپنے علم کو صرف اپنی ذات کے فائدے کے لیے نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی کے لیے بروئے کار لاتا ہے۔ اسی لیے خواندگی کو محض تعلیمی اعداد و شمار کا مسئلہ سمجھنا اس کے حقیقی مفہوم کو محدود کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے UNESCOیونیسکو  کے مطابق خواندگی ایک بنیادی انسانی حق ہے اور یہ علم، مہارت، اقدار اور رویوں کے حصول کی بنیاد بنتی ہے؛ ایسی خواندگی جو امن، مساوات، قانون کی پاسداری، یکجہتی، انصاف، تنوع اور برداشت پر مبنی معاشرے کی تشکیل میں مدد دیتی ہے۔ 2026ء کا عالمی دن اسی وسیع تصور کو ’’لوگوں، کرۂ ارض اور خوش حالی کے لیے خواندگی‘‘ کے عنوان سے آگے بڑھا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے اس پیغام کی معنویت محض تعلیمی نہیں، قومی اور سلامتی کی اہمیت بھی رکھتی ہے۔ ہماری نوجوان آبادی ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ یہ نوجوان اگر علم، تحقیق، ہنر، کردار اور امید سے جڑ جائیں تو پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بن سکتے ہیں؛ لیکن اگر ان کے ذہن فکری خلا، محرومی، غلط معلومات، عدم برداشت اور نفرت انگیز پروپیگنڈے کے لیے کھلے چھوڑ دیے جائیں تو یہی خلا انتہا پسند عناصر کے لیے جگہ پیدا کر سکتا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک میدان سرحدوں، شہروں اور میدانِ عمل میں ہے، مگر اس جنگ کا سب سے نازک اور فیصلہ کن محاذ انسانی ذہن ہے۔ دہشت گرد کا ہتھیار جسم کو نشانہ بناتا ہے، انتہا پسندانہ فکر ذہن کو۔ سکیورٹی فورسز کسی حملے کو ناکام بنا سکتی ہیں، قانون کسی مجرم کو سزا دے سکتا ہے، مگر اس ذہن کو تبدیل کرنا جو تشدد کو جائز سمجھنے لگے، ایک مختلف نوعیت کی جدوجہد ہے۔ اس کے لیے بندوق سے زیادہ کتاب، جبر سے زیادہ دلیل اور خوف سے زیادہ شعور درکار ہوتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں خواندگی قومی سلامتی کی ایک خاموش مگر طاقتور قوت بن جاتی ہے۔ جو نوجوان سوال کرنا جانتا ہے، اسے بہکانا آسان نہیں ہوتا۔ جو دلیل مانگتا ہے، وہ جذباتی نعروں کا اسیر نہیں بنتا۔ جو مختلف نقطۂ نظر پڑھتا ہے، وہ دنیا کو صرف ’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کے خانوں میں تقسیم کرنے سے پہلے سوچتا ہے۔ جو تاریخ سے واقف ہوتا ہے، وہ ماضی کی غلطیوں کو مستقبل کا مقدر بنانے سے انکار کرتا ہے۔ اور جو اپنے مذہب، آئین، معاشرے اور دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، اسے نفرت کے مختصر اور سطحی نعروں کے ذریعے اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اسلامی تہذیب میں علم کی یہ اہمیت کسی جدید تصور سے مستعار نہیں۔ قرآنِ مجید کی پہلی وحی ہی ’’اقْرَأْ‘‘ یعنی ’’پڑھیے‘‘ کے حکم سے شروع ہوتی ہے: ’’اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ‘‘ — ’’پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔‘‘ اسی سلسلے میں قرآن قلم کے ذریعے تعلیم دینے اور انسان کو وہ علم عطا کرنے کا ذکر کرتا ہے جس سے وہ پہلے ناواقف تھا۔ غور کیجیے، وحی کا آغاز تلوار سے نہیں، قلم سے ہوتا ہے؛ تصادم سے نہیں، قرأت سے ہوتا ہے؛ اور جہالت کے اندھیرے کا پہلا جواب علم کی روشنی بنتا ہے۔ یہ اسلامی تصورِ علم کی روح ہے۔ علم انسان کو صرف معلومات نہیں دیتا، اسے مقصد دیتا ہے؛ صرف زبان نہیں دیتا، ذمہ داری دیتا ہے؛ صرف اظہار نہیں دیتا، احتساب بھی سکھاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں علم اور اخلاق ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ ایسا علم جو انسان کو تکبر، ظلم، نفرت اور فساد کی طرف لے جائے، اپنی روح کھو دیتا ہے؛ جبکہ وہ علم جو انسان کے اندر عدل، رحم، امانت، برداشت اور احساسِ ذمہ داری پیدا کرے، معاشرے کے لیے رحمت بن جاتا ہے۔ اسی لیے پاکستان میں خواندگی کی جدوجہد کو دینی و اخلاقی تربیت، جدید تعلیم، تنقیدی فکر اور شہری شعور کے باہم مربوط تصور کے طور پر دیکھنا ہوگا۔

یہاں آئینِ پاکستان بھی ہمارے لیے واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 25-A ریاست کو پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کا پابند کرتا ہے۔ یہ محض ایک تعلیمی خواہش نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔ لیکن آئین کا تصورِ تعلیم صرف اسکول کے دروازے تک محدود نہیں۔ آرٹیکل 37(b) ریاست کو ناخواندگی کے خاتمے اور کم سے کم ممکنہ مدت میں مفت اور لازمی ثانوی تعلیم کی فراہمی کی کوشش کا تقاضا کرتا ہے، جبکہ پسماندہ طبقات اور علاقوں کے تعلیمی و معاشی مفادات کے فروغ اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے عام کرنے پر بھی زور دیتا ہے۔ یوں خواندگی دراصل ایک ایسے پاکستان کی آئینی ضرورت ہے جہاں کوئی بچہ محض غربت، جغرافیے یا سماجی محرومی کی وجہ سے علم کے دروازے سے باہر نہ رہ جائے۔ آرٹیکل 31 مسلمانوں کو قرآن و سنت کے مطابق اسلامی طرزِ زندگی سمجھنے کے لیے سہولیات کی فراہمی اور اسلامی اخلاقی اقدار کے فروغ سے متعلق ریاستی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ مذہبی تعلیم کو سطحی معلومات یا جذباتی نعروں تک محدود نہ کیا جائے بلکہ اسے فہم، اخلاق، اعتدال، عدل اور ذمہ داری سے جوڑا جائے۔ ایسے دینی شعور کی موجودگی میں مذہب کے نام پر نفرت، تشدد یا معصوم انسانی جانوں کے ضیاع کو جواز فراہم کرنا آسان نہیں رہتا۔ اسی طرح آرٹیکل 33 علاقائی، نسلی، قبائلی، فرقہ وارانہ اور صوبائی تعصبات کی حوصلہ شکنی کی بات کرتا ہے۔ یہ شق ہمارے لیے اس حقیقت کا آئینی اظہار ہے کہ قومی یکجہتی صرف نقشے پر قائم نہیں ہوتی؛ یہ ذہنوں میں تعمیر ہوتی ہے۔ اگر تعلیم انسان کو اپنے سے مختلف زبان، مسلک، ثقافت، صوبے یا برادری کے فرد کو کمتر سمجھنا سکھائے تو تعلیم اپنی روح سے دور ہو جاتی ہے۔ حقیقی خواندگی وہ ہے جو شناخت پر فخر کے ساتھ دوسرے کی شناخت کے احترام کا سلیقہ بھی عطا کرے۔ آرٹیکل 34 قومی زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی مکمل شرکت کے لیے اقدامات کی بات کرتا ہے۔ خواتین کی خواندگی اسی آئینی تصور کو عملی شکل دینے کا بنیادی وسیلہ ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عورت صرف اپنی ذات کے امکانات نہیں بڑھاتی؛ وہ خاندان میں صحت، تعلیم، تربیت اور سماجی شعور کی ایک پوری زنجیر کو مضبوط کرتی ہے۔ گھر بچے کی پہلی درس گاہ ہے، اور ماں اکثر اس درس گاہ کی پہلی معلم ہوتی ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 36 اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ اس آئینی تصور کو تعلیمی نظام میں احترام، رواداری اور باہمی شناسائی کے ذریعے تقویت دی جا سکتی ہے۔ جو بچہ اپنے ہم وطن کے مذہب، ثقافت اور انسانی وقار کا احترام سیکھتا ہے، وہ اختلاف کو نفرت اور فرق کو دشمنی میں بدلنے کے امکانات کو کم کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خواندگی، قومی یکجہتی اور انسدادِ انتہا پسندی ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ آج کا نوجوان صرف کتابوں سے نہیں سیکھتا۔ اس کے ہاتھ میں موبائل فون ہے اور اس موبائل فون میں ایک پوری دنیا سمائی ہوئی ہے۔ وہ ایک لمحے میں دنیا کی بہترین علمی معلومات تک پہنچ سکتا ہے، مگر اسی رفتار سے جھوٹ، نفرت، سازشی نظریات، جعلی خبریں اور انتہا پسندانہ پروپیگنڈا بھی اس تک پہنچ سکتا ہے۔ چنانچہ اکیسویں صدی میں ’’پڑھ لکھ لینا‘‘ کافی نہیں؛ ڈیجیٹل اور میڈیا خواندگی بھی ضروری ہے۔ نوجوان کو یہ سکھانا ہوگا کہ ہر وائرل ویڈیو حقیقت نہیں، ہر خوب صورت تحریر سچ نہیں، ہر جذباتی تقریر دلیل نہیں اور ہر مقبول رائے درست نہیں۔ اسے ماخذ جانچنے، معلومات کی تصدیق کرنے، تصویر اور ویڈیو کے سیاق کو سمجھنے، جھوٹی خبر کی پہچان کرنے اور نفرت انگیز مواد کے سماجی نتائج کا ادراک ہونا چاہیے۔ UNESCO بھی موجودہ دور میں خواندگی کے تصور کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے جوڑتے ہوئے میڈیا اور معلوماتی خواندگی کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔

یہ ضرورت پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ دہشت گرد اور انتہا پسند گروہ اب صرف روایتی ذرائع استعمال نہیں کرتے۔ وہ جذبات کو بھڑکانے، شناخت کو متنازع بنانے، نوجوانوں کی محرومیوں سے فائدہ اٹھانے اور جھوٹی معلومات پھیلانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز استعمال کر سکتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ہر شہری کو محض صارف نہیں بلکہ باشعور قاری اور ذمہ دار ڈیجیٹل شہری بنانا ہوگا۔ انتہا پسندی اکثر وہاں جڑ پکڑتی ہے جہاں سوال بہت ہوتے ہیں مگر قابلِ اعتماد جواب کم۔ نوجوان اپنی شناخت، مستقبل، مذہب، انصاف، محرومی اور معاشرتی مسائل کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ اگر گھر، اسکول، مدرسہ، یونیورسٹی اور معاشرہ ان سوالات کا سنجیدہ اور علمی جواب نہ دیں تو کوئی اور ان کے جواب اپنی مرضی سے لکھ سکتا ہے۔ اسی لیے سوال کو دبانا نہیں، سوال کو علم کی طرف لے جانا ضروری ہے۔ایک اچھا استاد یہاں محض نصاب پڑھانے والا فرد نہیں رہتا؛ وہ ذہن کا معمار بن جاتا ہے۔ وہ طالب علم کو سکھاتا ہے کہ اختلاف دشمنی نہیں، تنقید بغاوت نہیں اور سوال گستاخی نہیں۔ وہ اسے دلیل کے ساتھ اختلاف، احترام کے ساتھ مکالمہ اور قانون کے دائرے میں اظہار کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ یہی وہ شہری تربیت ہے جو معاشرے کو تشدد کے بجائے گفتگو کی طرف لے جاتی ہے۔ پاکستان میں مدارس اور جدید تعلیمی اداروں کے درمیان علمی فاصلے کو کم کرنا بھی اسی جامع حکمتِ عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔ دینی مدارس کے طلبہ کو جدید سائنس، ٹیکنالوجی، معاشرتی علوم اور ڈیجیٹل دنیا کی سمجھ حاصل ہو، جبکہ جدید تعلیمی اداروں کے طلبہ کو اپنی دینی، اخلاقی اور تہذیبی روایت کا مستند فہم دیا جائے۔ علم کے مختلف شعبوں کو ایک دوسرے کا حریف بنانے کے بجائے انسانی فلاح اور قومی تعمیر کے مشترکہ مقصد سے جوڑنا زیادہ تعمیری راستہ ہے۔ اسلام میں انسانی جان کی حرمت بنیادی اخلاقی اصول ہے۔ قرآنِ مجید ناحق قتل کی سنگینی کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔ اس لیے معصوم انسانوں کو قتل کرنا، خوف پھیلانا اور معاشرے میں فساد برپا کرنا کسی مذہبی جواز کا حامل نہیں ہو سکتا۔ انتہا پسندانہ فکر کے خلاف سب سے مؤثر مذہبی جواب وہ ہے جو قرآن و سنت کے مستند فہم، علمی روایت، حکمت اور اعتدال پر قائم ہو۔ نوجوان کو مذہب سے دور کرنا حل نہیں؛ اسے مذہب کے مستند، متوازن اور اخلاقی پیغام سے جوڑنا زیادہ مضبوط راستہ ہے۔ خواندگی کا تعلق صرف امن سے نہیں، خوش حالی سے بھی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ فرد کے لیے ہنر، روزگار، کاروبار اور معاشی ترقی کے امکانات بڑھتے ہیں۔ اسی لیے آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 38 عوام کی سماجی اور معاشی بہبود کے فروغ سے متعلق ریاستی ذمہ داریوں کو بیان کرتا ہے۔ تعلیم، ہنر، روزگار، سماجی تحفظ اور باعزت زندگی ایک دوسرے سے الگ جزیرے نہیں؛ یہ ایک ہی انسانی فلاح کے مختلف پہلو ہیں۔

اسی طرح خواندگی کا تعلق کرۂ ارض سے بھی ہے۔ جو انسان تعلیم یافتہ اور باشعور ہوتا ہے، وہ پانی کے ضیاع، آلودگی، جنگلات کی کٹائی، توانائی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال اور قدرتی وسائل کی محدودیت کو سمجھ سکتا ہے۔ ’’کرۂ ارض کے لیے خواندگی‘‘ دراصل آنے والی نسلوں کے حق کو سمجھنے کا نام ہے۔ زمین صرف ہمارے استعمال کے لیے نہیں؛ ہم اسے آنے والی نسلوں سے مستعار لے کر آئے ہیں۔ اور یہی اس موضوع کے ’’لوگوں، کرۂ ارض اور خوش حالی‘‘ کے تینوں پہلوؤں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتا ہے۔ انسان کی فلاح ایک صحت مند ماحول کے بغیر مکمل نہیں، معاشی خوش حالی تعلیم کے بغیر پائیدار نہیں اور امن فکری و اخلاقی شعور کے بغیر دیرپا نہیں ہو سکتا۔ پاکستان میں ہمیں شرحِ خواندگی کے ساتھ معیارِ شعور بھی بلند کرنا ہوگا۔ سوال یہ نہیں کہ کتنے لوگ الفاظ پڑھ سکتے ہیں؛ سوال یہ ہے کہ کتنے لوگ ان الفاظ کا مطلب سمجھتے ہیں۔ کتنے شہری اپنے آئینی حقوق و فرائض سے واقف ہیں؟ کتنے لوگ جھوٹ اور سچ میں فرق کر سکتے ہیں؟ کتنے نوجوان اختلاف کو برداشت کر سکتے ہیں؟ کتنے لوگ مذہب، قوم، زبان یا سیاست کے نام پر پھیلائی جانے والی نفرت کو پہچان سکتے ہیں؟ اور کتنے لوگ اپنے علم کو صرف اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ اپنے وطن اور انسانیت کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں؟ یہی وہ مقام ہے جہاں خواندگی ایک قومی مشن بن جاتی ہے۔ اس مشن کے لیے حکومت، تعلیمی ادارے، مذہبی علما، اساتذہ، والدین، میڈیا، جامعات، سول سوسائٹی اور نجی شعبے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہر اسکول ایک محفوظ فکری جگہ بنے؛ ہر استاد دلیل اور برداشت کا سفیر ہو؛ ہر مسجد اور مدرسہ مستند علم اور اعتدال کا مرکز بنے؛ ہر میڈیا ادارہ ذمہ دار معلومات کے فروغ کو ترجیح دے؛ اور ہر ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر شہریوں کو جھوٹی خبر، نفرت اور انتہا پسندانہ مواد کی پہچان سکھائی جائے۔ یہ کام کسی ایک دن کی سرگرمی سے مکمل نہیں ہوگا۔ خواندگی ایک مسلسل قومی سفر ہے۔ ایک ایسا سفر جس میں کتاب سے ذہن تک، ذہن سے کردار تک اور کردار سے معاشرے تک روشنی منتقل ہوتی ہے۔

آج بین الاقوامی یومِ خواندگی کے موقع پر ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو صرف امتحان پاس کرنے کے لیے پڑھائیں گے یا زندگی سمجھنے کے لیے بھی۔ ہم انہیں صرف ملازمت کے لیے تیار کریں گے یا ذمہ دار شہری بنانے کے لیے بھی۔ ہم انہیں صرف معلومات دیں گے یا معلومات کو پرکھنے کی بصیرت بھی دیں گے۔ ہم انہیں صرف اپنی شناخت سے محبت سکھائیں گے یا دوسروں کی شناخت کا احترام بھی؟ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کا نوجوان انتہا پسندانہ پروپیگنڈے کے سامنے مضبوط کھڑا ہو تو اسے علم دیں۔ اگر چاہتے ہیں کہ وہ نفرت کی زبان مسترد کرے تو اسے مکالمے کا سلیقہ دیں۔ اگر چاہتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کے جھوٹے جوازوں کو پہچان سکے تو اسے قرآن، سیرت، تاریخ، آئین، قانون اور انسانی اقدار کا مستند فہم دیں۔ اگر چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان کو مضبوط بنائے تو اسے صرف خواب نہ دیں، ان خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے تعلیم، ہنر اور مواقع بھی دیں۔ہمیں ایسی خواندگی درکار ہے جو ہاتھ میں قلم دے اور ذہن کو روشنی؛ جو زبان کو اظہار دے اور دل کو برداشت؛ جو آنکھ کو کتاب پڑھائے اور ضمیر کو انسان پڑھنا سکھائے۔کیونکہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف دہشت گرد سے نہیں، اس فکر سے بھی ہے جو انسان کو انسان کے خلاف کھڑا کرتی ہے۔ انتہا پسندی کا جواب صرف طاقت نہیں، وہ شعور بھی ہے جو نوجوان کو بتاتا ہے کہ اختلاف کے باوجود انسانیت مشترک ہے؛ مذہب کے نام پر ظلم مذہب نہیں؛ اور تشدد کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں۔ پاکستان کی حقیقی طاقت صرف اس کے جغرافیے، وسائل یا دفاعی صلاحیت میں نہیں؛ اس کی اصل قوت اس کے باشعور شہری ہیں۔ مضبوط سرحدیں بیرونی خطرات سے تحفظ دیتی ہیں، مگر مضبوط ذہن اندرونی انتشار کے مقابلے میں قوم کو استحکام دیتے ہیں۔ اسی لیے ایک بچے کا کتاب کھولنا بظاہر ایک معمولی واقعہ ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک قوم کے مستقبل کے دروازے کھولنے کے مترادف ہے۔ جب ایک نوجوان افواہ کے بجائے تحقیق کو، نفرت کے بجائے مکالمے کو، تعصب کے بجائے انصاف کو اور تشدد کے بجائے تعمیر کو اختیار کرتا ہے تو وہ صرف اپنی ذات کو نہیں بدلتا؛ وہ پاکستان کی سمت بدلنے میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ یہی خواندگی کی اصل طاقت ہے۔ یہی ’’اقْرَأْ‘‘ کا پیغام ہے۔ یہی آئینِ پاکستان کے حقِ تعلیم، قومی یکجہتی، خواتین کی شرکت، اقلیتوں کے تحفظ، ناخواندگی کے خاتمے اور عوامی بہبود کے تصور کی روح سے ہم آہنگ راستہ ہے۔ اور یہی بین الاقوامی یومِ خواندگی 2026ء کے پیغام کو پاکستان کی قومی ضرورت میں ڈھالنے کا راستہ ہے۔ آج ہمیں صرف کتابیں تقسیم نہیں کرنی؛ سوچنے کی آزادی، سوال کرنے کی جرأت، سچ پرکھنے کی بصیرت، اختلاف میں تہذیب اور انسان کا احترام کرنے کا شعور بھی عام کرنا ہے۔کیونکہ جس قوم کے ہاتھ میں کتاب اور ذہن میں روشنی ہو، اسے نفرت کے اندھیروں میں زیادہ دیر قید نہیں رکھا جا سکتا۔ پاکستان کا محفوظ مستقبل صرف مضبوط اداروں اور محفوظ سرحدوں سے نہیں، روشن ذہنوں سے بھی تعمیر ہوگا۔ اور یہ ذہن علم، کتاب، اخلاق، آئین، اعتدال، تحقیق اور انسانیت کے شعور سے روشن ہوں گے۔ خواندگی دراصل روشنی کا نام ہےوہ روشنی جو ایک فرد کے ذہن سے نکل کر گھر، معاشرے اور پوری قوم کے مستقبل کو منور کر سکتی ہے۔ اور جب یہ روشنی ہر بچے، ہر نوجوان اور ہر شہری تک پہنچ جائے تو انتہا پسندی کے اندھیروں کو شکست دینا محض ایک خواب نہیں، ایک قومی امکان بن جاتا ہے۔