مساجد کی حرمت: بھارت میں مذہبی تعصب اور طالبان کی پاکستان میں دہشت گردی مسجد مسلمان کے لیے محض اینٹ، پتھر، گنبد اور مینار کا نام نہیں۔ یہ عبادت، روحانیت، اجتماع، مساوات اور امن کی علامت ہے۔ مسجد میں امیر و غریب ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں، حاکم و محکوم ایک ہی قبلے کی […]
مسجد مسلمان کے لیے محض اینٹ، پتھر، گنبد اور مینار کا نام نہیں۔ یہ عبادت، روحانیت، اجتماع، مساوات اور امن کی علامت ہے۔ مسجد میں امیر و غریب ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں، حاکم و محکوم ایک ہی قبلے کی طرف رخ کرتے ہیں اور انسان اپنی دنیاوی شناختوں سے بلند ہو کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوتا ہے۔ اسی لیے مسجد کی حرمت کسی سیاسی جماعت، ریاست، گروہ یا مسلک کی محتاج نہیں؛ یہ مسلمان کے مذہبی عقیدے اور انسانی وقار سے جڑی ہوئی ہے۔ جب کسی مسجد کو منہدم کیا جاتا ہے، اس کی بے حرمتی کی جاتی ہے یا وہاں عبادت کرنے والوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو نقصان صرف ایک عمارت کا نہیں ہوتا بلکہ مذہبی آزادی، انسانی سلامتی اور معاشرتی امن کے بنیادی اصول متاثر ہوتے ہیں۔
پاکستان کے نقطۂ نظر سے جنوبی ایشیا میں مساجد اور مسلم مذہبی مقامات کے حوالے سے پیدا ہونے والے واقعات کو صرف مذہبی اختلاف کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ ایک طرف بھارت میں بعض ہندوتوا سیاسی و انتہاپسند تحریکوں سے وابستہ تاریخی مساجد کے بارے میں تنازعات، انہدام اور مذہبی شناخت تبدیل کرنے کی مہمات سامنے آئی ہیں، جبکہ دوسری طرف پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان اور اس سے وابستہ دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں مساجد، امام بارگاہوں، مزارات، علماء، مذہبی رہنماؤں اور نمازیوں کے خلاف انتہائی خونریز حملوں کا سامنا کیا ہے۔ دونوں صورتوں کے تاریخی، سیاسی اور تنظیمی پس منظر مختلف ہیں، لیکن ایک بنیادی حقیقت مشترک ہے کہ جب مذہب کو نفرت، سیاسی غلبے یا مسلح طاقت کے لیے استعمال کیا جائے تو سب سے پہلے مذہبی آزادی، انسانی جان اور مقدس مقامات متاثر ہوتے ہیں۔
بھارت میں بابری مسجد کا سانحہ اس بحث کا سب سے نمایاں حوالہ ہے۔ 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں سولہویں صدی کی بابری مسجد ایک بڑے ہندو ہجوم کے ہاتھوں منہدم کی گئی۔ اس سے قبل مسجد کے مقام کو رام جنم بھومی قرار دینے کی سیاسی و مذہبی مہم کئی برس تک جاری رہی تھی اور ہندوتوا سے وابستہ تنظیموں نے اس مہم میں اہم کردار ادا کیا۔ مسجد کے انہدام کے بعد بھارت کے مختلف حصوں میں شدید فرقہ وارانہ تشدد ہوا اور بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ یوں بابری مسجد محض ایک تاریخی عمارت کے انہدام کا نام نہیں رہی بلکہ ہندوستانی سیاست، مذہبی شناخت، اکثریتی قوم پرستی اور اقلیتی حقوق کے درمیان کشمکش کی علامت بن گئی۔ اگر صدیوں پرانے مذہبی دعووں کو سیاسی تحریکوں کے ذریعے موجودہ عبادت گاہوں کی شناخت تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو تاریخی ورثہ مستقل تنازع کا شکار ہو سکتا ہے۔ بھارت میں Places of Worship (Special Provisions) Act, 1991 کا مقصد بھی یہی تھا کہ 15 اگست 1947 کو عبادت گاہوں کی جو مذہبی حیثیت تھی، اسے برقرار رکھا جائے اور ماضی کے تنازعات کو مسلسل موجودہ دور میں منتقل ہونے سے روکا جائے۔ بابری مسجد کے معاملے کو اس قانون سے الگ استثنا حاصل تھا، لیکن اس قانون کا بنیادی تصور یہ تھا کہ مذہبی مقامات کی حیثیت کو صدیوں پرانے دعووں کی بنیاد پر مسلسل تبدیل کرنے کا راستہ بند کیا جائے۔ بابری مسجد کے بعد گیان واپی مسجد سمیت دیگر تاریخی مساجد کے بارے میں بھی تنازعات سامنے آئے۔ ان معاملات نے یہ سوال دوبارہ زندہ کیا کہ تاریخی دعووں، مذہبی عقائد اور موجودہ قانونی حقوق کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ پاکستان کے نقطۂ نظر سے اس کا اصولی جواب واضح ہے: تاریخ کو تحقیق کے ذریعے سمجھا جائے، آثارِ قدیمہ کو ماہرین کے ذریعے جانچا جائے، قانونی تنازعات عدالتوں میں حل ہوں اور کسی مذہبی مقام کی قسمت ہجوم، اشتعال یا سیاسی دباؤ سے طے نہ ہو۔ اگر ایک تاریخی دعویٰ موجودہ عبادت گاہ کے وجود اور مذہبی شناخت کو تبدیل کرنے کی بنیاد بن جائے تو یہ صرف ایک مقام کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے لیے مستقل عدم تحفظ پیدا کر سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں سنبھل، سہارنپور اور اتر پردیش کے دیگر مقامات پر مساجد اور مذہبی عمارات کے حوالے سے قانونی و انتظامی تنازعات نے بھی اس بحث کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ یہاں ایک اہم فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے: اگر کسی عمارت کے بارے میں زمین، تجاوزات یا تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزی کا حقیقی معاملہ ہو تو ریاست کو قانون کے مطابق کارروائی کا حق حاصل ہے۔ لیکن قانونی کارروائی اور کسی مخصوص مذہبی برادری کے تاریخی مقامات کو وسیع تر مذہبی یا سیاسی مہم کے تحت نشانہ بنانے میں واضح فرق ہے۔ ہر واقعے کی قانونی حیثیت الگ شواہد کی بنیاد پر طے ہونی چاہیے، تاہم ریاستی اختیار کا استعمال مذہبی شناخت سے بالاتر، شفاف اور یکساں ہونا ضروری ہے۔ اسی تناظر میں بھارت میں جس رجحان کو انسانی حقوق کی تنظیموں نے "بلڈوزر جسٹس” کا نام دیا، وہ بھی اہم ہے۔ بعض ریاستوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی یا احتجاج کے بعد مسلم گھروں، کاروباری مراکز اور مذہبی مقامات کے انہدام پر سوالات اٹھائے گئے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بعض کارروائیوں کو اجتماعی سزا یا امتیازی طرز عمل قرار دیا، جبکہ بھارتی حکام نے متعدد معاملات میں تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات یا سرکاری زمین کے استعمال کو بنیاد بنایا۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ کسی بھی واقعے کو یک طرفہ دعوے کے بجائے دستاویزی شواہد، عدالتی فیصلوں اور قابل اعتماد تحقیقات کی روشنی میں دیکھا جائے۔ تاہم اصولی سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ قانون کا نفاذ سب شہریوں اور تمام مذہبی برادریوں کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ یہاں ہندوتوا اور ہندو مذہب کے درمیان فرق کرنا بھی ضروری ہے۔ ہندو مذہب ایک قدیم مذہبی روایت ہے جس سے کروڑوں لوگ وابستہ ہیں، جبکہ ہندوتوا ایک مخصوص سیاسی و نظریاتی تصور ہے جس کی مختلف سیاسی و فکری تشریحات موجود ہیں۔ کسی بھی سیاسی نظریے یا انتہاپسند تحریک کے اقدامات کو پورے مذہب یا پوری مذہبی برادری سے منسوب کرنا درست نہیں۔ جس طرح تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گردی کو اسلام یا تمام مسلمانوں کی نمائندگی قرار نہیں دیا جا سکتا، اسی طرح ہندوتوا سے وابستہ بعض انتہاپسند یا سیاسی تحریکوں کے اقدامات کو تمام ہندوؤں سے منسوب کرنا بھی درست نہیں۔ اصل مسئلہ مذہب نہیں بلکہ مذہب کے نام پر طاقت، نفرت، امتیاز اور تشدد کا استعمال ہے۔
اسی طرح تحریک طالبان پاکستان اور اس سے وابستہ گروہوں نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مساجد، امام بارگاہوں، مزارات، علماء، قبائلی عمائدین، پولیس اہلکاروں، فوجی اہلکاروں اور عام نمازیوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیاں دی ہیں۔ ان حملوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کسی مقدس مقصد کی نمائندہ نہیں ہو سکتی، خواہ حملہ آور اپنے عمل کو مذہبی الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کریں۔2009 میں خیبر اور دیگر علاقوں میں مساجد اور مذہبی مقامات پر متعدد حملے ہوئے۔ جمرود میں مسجد پر خودکش حملے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسی دور میں معتدل علماء بھی طالبان کی مخالفت کی وجہ سے نشانہ بنے۔ علامہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شہادت اس بات کی واضح مثال تھی کہ دہشت گرد عناصر ان علماء کو بھی برداشت نہیں کرتے تھے جو خودکش حملوں اور انتہاپسندی کے خلاف کھڑے تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان کا مسئلہ صرف ریاست دشمن نہیں ترہا بلکہ وہ ان مذہبی آوازوں کو بھی خاموش کرنا چاہ رہے جو ان کے انتہاپسند نظریے سے اختلاف کرتی ہیں۔ درہ آدم خیل میں جمعہ کی نماز کے دوران مسجد پر حملہ، جنوبی وزیرستان کے وانا میں مسجد پر خودکش حملہ، خیبر ایجنسی میں مساجد پر حملے اور تیراہ و باڑہ میں مذہبی اجتماعات کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات اسی سلسلے کی کڑیاں تھے۔ ان حملوں میں نمازی شہید ہوئے، خاندان اجڑے اور عبادت گاہیں خوف کی علامت بننے لگیں۔ مسجد، جو امن اور سکون کی جگہ ہونی چاہیے تھی، دہشت گردوں کے ہاتھوں موت کا میدان بن گئی۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایسا المیہ ہے جسے بھلایا نہیں جا سکتا۔ 30جنوری 2023 کا پشاور پولیس لائنز مسجد حملہ اس خونریز سلسلے کا ایک اور المناک باب تھا۔ مسجد پولیس لائنز کے اندر واقع تھی اور نمازیوں میں بڑی تعداد پولیس اہلکاروں کی تھی۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی گئی۔ مختلف ذرائع میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں فرق موجود رہا، تاہم اس سانحے کی شدت پر کوئی اختلاف نہیں۔ مسجد کے اندر نماز ادا کرنے والوں کو نشانہ بنانا اس تصور کی مکمل نفی ہے کہ دہشت گرد کسی مذہبی یا اخلاقی مقصد کے لیے لڑ رہے ہیں۔ جس شخص یا گروہ کے نزدیک مسجد میں عبادت کرنے والا انسان بھی قابلِ قتل ہو، وہ دراصل مذہب کے بنیادی اخلاقی اصولوں سے بغاوت کر رہا ہوتا ہے۔
طالبان اور ان سے وابستہ انتہاپسند گروہوں کی کارروائیاں مساجد تک محدود نہیں رہیں۔ صوفیاء، مزارات اور ان علماء کو بھی نشانہ بنایا گیا جو ان کے نظریاتی سانچے میں ڈھل نہیں پاتے تھے۔ میاں عمر بابا، علی ہجویری المعروف داتا دربار،رحمان بابا اور حضرت احمد سخی سرور جیسے مذہبی و صوفی مراکز پر حملے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انتہاپسندی کا اصل مسئلہ مذہب کی حفاظت نہیں بلکہ مذہب کی اپنی مخصوص اور پرتشدد باطل تعبیر کو دوسروں پر مسلط کرنا ہے۔ جب کوئی گروہ یہ فیصلہ خود کرنے لگے کہ کون مسلمان ہے، کون کافر ہے، کون صحیح مذہبی روایت کا نمائندہ ہے اور کون موت کا مستحق ہے تو وہ معاشرے کو مذہبی اصلاح نہیں بلکہ خوف، نفرت اور خونریزی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہاں بھارت اور طالبان کے معاملے میں ایک بنیادی امتیاز برقرار رکھنا ضروری ہے۔ بھارت میں مساجد سے متعلق تنازعات کا تعلق بعض ہندوتوا سیاسی تحریکوں، تاریخی دعووں، فرقہ وارانہ سیاست اور بعض ریاستی و انتظامی کارروائیوں سے ہے، جبکہ پاکستان میں طالبان کی کارروائیاں مسلح دہشت گردی، خودکش حملوں اور منظم تشدد کی صورت میں سامنے آئیں۔ واضح رہے کہ یہ دونوں ایک وسیع تر اخلاقی سبق ضرور دیتے ہیں کہ جب مذہبی شناخت کو سیاسی غلبے، نفرت یا مسلح طاقت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کا تحفظ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ مسجد کا دشمن صرف وہ نہیں جو اس کی دیوار گرا دے۔ وہ بھی مسجد کی حرمت کا دشمن ہے جو نمازیوں کو بارود کا نشانہ بنائے۔ وہ بھی مسجد کی روح کو مجروح کرتا ہے جو منبر کو نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کرے۔ وہ بھی مذہبی آزادی کے خلاف ہے جو کسی شخص کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر اس کی عبادت گاہ کو نشانہ بنائے۔ اور وہ بھی مقدس اقدار کو نقصان پہنچاتا ہے جو مذہب کو اپنی سیاسی یا عسکری طاقت کے حصول کا ذریعہ بنائے۔ ایک طرف بلڈوزر کسی عبادت گاہ کی دیوار گرا سکتا ہے اور دوسری طرف دہشت گرد بارود سے مسجد کے اندر خون بہا سکتا ہے؛ دونوں صورتوں میں سب سے بڑا نقصان اس اصول کو پہنچتا ہے کہ انسان کو اپنے رب کے سامنے امن کے ساتھ کھڑے ہونے کا حق حاصل ہے۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ سبق بہت بھاری قیمت ادا کرکے سیکھا ہے۔ اسی لیے پاکستان کے لیے مسجد کی حرمت محض مذہبی نعرہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، سماجی ہم آہنگی اور انسانی تحفظ کا مسئلہ بھی ہے۔ پاکستان کی مساجد میں علماء، طلبہ، مزدور، تاجر، کسان، پولیس اہلکار، فوجی، قبائلی عمائدین اور عام شہری سب ایک ساتھ عبادت کرتے ہیں۔ ان پر حملہ معاشرے کے کسی ایک طبقے پر نہیں بلکہ پورے قومی ڈھانچے پر حملہ ہوتا ہے۔ اسی لیے دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی میں مذہبی مقامات کے تحفظ، علماء کے کردار، کمیونٹی انگیجمنٹ اور انتہاپسند نظریات کے سدباب کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔
پاکستان کا اصولی مؤقف کسی مذہب یا مذہبی برادری کے خلاف نہیں ہے۔ مسئلہ ان پالیسیوں، تحریکوں، تشدد یا امتیازی اقدامات کا ہے جو مذہبی آزادی، اقلیتی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو متاثر کریں۔ اسی طرح پاکستان میں طالبان یا کسی بھی دہشت گرد گروہ کی کارروائی کو اسلام کی نمائندگی قرار دینا بھی مذہب کی توہین کے مترادف ہے۔ اسلام عبادت گاہوں کے احترام، انسانی جان کی حرمت، عدل اور امن کی تعلیم دیتا ہے؛ دہشت گردی ان اصولوں کی نفی ہے۔ جنوبی ایشیا کی پائیدار سلامتی اسی وقت ممکن ہے جب مسجد، مندر، گرجا گھر، گردوارہ، امام بارگاہ، مزار اور دیگر تمام مذہبی مقامات کو قانون اور اخلاق کے یکساں تحفظ میں رکھا جائے۔ کسی مذہبی عمارت کا قانونی تنازع ہو تو عدالت فیصلہ کرے، زمین کا مسئلہ ہو تو شفاف قانونی کارروائی ہو، تاریخی دعویٰ ہو تو ماہرین تحقیق کریں اور اگر کوئی دہشت گرد عبادت گاہ کو نشانہ بنائے تو اسے قانون کے مطابق جواب دیا جائے۔ نہ مذہبی ہجوم تاریخ کا فیصلہ کر سکتا ہے اور نہ مسلح گروہ مذہب کی تعبیر کے نام پر انسانی جان کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
پاکستان کے لیے اس پورے معاملے کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ مذہب کو سیاست، انتقام اور دہشت گردی سے آزاد کرنا ہوگا۔ تاریخی اختلافات کا حل تحقیق اور قانون سے نکلے گا، نفرت سے نہیں۔ مذہبی آزادی کا تحفظ اکثریت کے احسان کا نام نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جا سکتی؛ اس کے لیے ایسا فکری اور سماجی ماحول بھی پیدا کرنا ہوگا جہاں نوجوان انتہاپسند پروپیگنڈے کو مسترد کریں، علماء امن اور اعتدال کی آواز بنیں، میڈیا ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرے اور ریاست تمام شہریوں کے حقوق کا یکساں تحفظ یقینی بنائے۔ مساجد صدیوں سے برصغیر کی تہذیبی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان کے مینار صرف ماضی کی تعمیرات نہیں بلکہ ان معاشروں کی گواہی ہیں جہاں مختلف تہذیبیں، زبانیں اور مذاہب ایک دوسرے کے ساتھ موجود رہے۔ کسی مسجد کو منہدم کرنا تاریخ کے ایک حصے کو مٹانا ہے، جبکہ مسجد میں نمازیوں کو قتل کرنا انسانی ضمیر پر حملہ ہے۔ دونوں صورتوں میں نقصان صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ اس اصول کا ہوتا ہے کہ مقدس مقامات، انسانی جان اور مذہبی آزادی طاقت کے تابع نہیں ہونی چاہیے۔
پاکستان کا مؤقف اس لیے واضح ہے کہ مساجد کی حرمت ناقابلِ تقسیم اصول ہے۔ بھارت میں کسی مسلم عبادت گاہ کے ساتھ ناانصافی ہو تو اس کی مخالفت مذہبی تعصب کے خلاف اصولی آواز ہونی چاہیے، اور پاکستان میں طالبان یا کسی دوسرے دہشت گرد گروہ کی جانب سے مسجد میں خونریزی ہو تو اسے بھی پوری قوت سے اسلام اور انسانیت دشمن عمل قرار دینا چاہیے۔ ایک طرف مذہبی مقام کو سیاسی غلبے کی علامت بنانے سے انکار ضروری ہے، دوسری طرف دہشت گردی کو مذہبی تقدس کا لباس پہنانے سے بھی انکار لازم ہے۔ جنوبی ایشیا کو اب مسجدوں کے انہدام، مذہبی امتیاز، فرقہ وارانہ نفرت اور عبادت گاہوں میں دہشت گردی کے اس چکر سے باہر نکلنا ہوگا۔ اس کا راستہ کسی ایک مذہب کی بالادستی نہیں بلکہ قانون کی بالادستی، مذہبی آزادی، انسانی وقار، تاریخی تحقیق اور پرامن بقائے باہمی سے نکلتا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اپنی طویل جدوجہد میں بہت کچھ کھویا ہے، لیکن اسی تجربے نے اسے یہ اخلاقی قوت بھی دی ہے کہ وہ دنیا کے سامنے واضح طور پر کہہ سکے: دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں اور کسی عبادت گاہ پر حملہ کسی مقدس مقصد کی خدمت نہیں کرتا۔
مسجد کی دیوار گرانے والا ہو یا مسجد کے اندر بارود لے جانے والا، دونوں اس بنیادی حق کو مجروح کرتے ہیں جس کے تحت انسان اپنے رب کے سامنے امن کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ فرق صرف طریقۂ کار کا ہے؛ نتیجہ دونوں صورتوں میں خوف، نفرت اور انسانی وقار کی پامالی ہے۔ اس لیے مسجد کی حرمت کا دفاع کسی قوم یا مسلک کے خلاف جنگ نہیں بلکہ ایک عالمگیر انسانی اصول کا دفاع ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جنوبی ایشیا کی ریاستیں اور معاشرے مذہبی مقامات کو سیاسی غلبے، تاریخی انتقام اور دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے لیے واضح اصول اختیار کریں۔ تاریخ کو عدالت اور تحقیق کے حوالے کیا جائے، مذہب کو نفرت کی سیاست سے دور رکھا جائے، دہشت گردی کو کسی بھی مذہبی جواز کے بغیر مسترد کیا جائے اور ہر انسان کو اپنی عبادت گاہ میں خوف سے آزاد ہو کر عبادت کرنے کا حق دیا جائے۔ کیونکہ مسجد صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ نہیں؛ یہ اس بنیادی انسانی حق کی علامت بھی ہے کہ انسان اپنے عقیدے کے مطابق، امن اور عزت کے ساتھ، اپنے رب کے سامنے کھڑا ہو سکے۔ جو طاقت اس حق کو چھینتی ہے، چاہے وہ نفرت کے بلڈوزر سے آئے یا دہشت گردی کے بارود سے، اس کا مقابلہ قانون، انصاف، انسانی وقار، مذہبی آزادی اور امن کے اصولوں سے ہی کیا جا سکتا ہے۔
© 2026 PPN - پرامن پاکستان نیٹ ورک