آزادی صرف منزل نہیں، مسلسل ذمہ داری کا نام ہے

آزادی کسی قوم کو محض ایک دن، ایک اعلان یا ایک سیاسی فیصلے سے حاصل نہیں ہوتی۔ آزادی دراصل صدیوں کی خواہش، نسلوں کی جدوجہد، بے شمار قربانیوں، بے لوث قیادت اور اجتماعی عزم کا ثمر ہوتی ہے۔ 14 اگست 1947ء کو پاکستان کا قیام صرف برصغیر کے نقشے پر ایک نئی ریاست کے ظہور کا واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسی عظیم جدوجہد کی تکمیل تھی جس میں لاکھوں انسانوں نے اپنا گھر بار چھوڑا، بے شمار خاندانوں نے اپنے پیاروں کو کھویا اور ایک پوری نسل نے اپنے مستقبل کو ایک آزاد وطن کے نام کر دیا۔ اس آزادی کی قیمت خون سے ادا کی گئی تھی، اس لیے اس کی حفاظت محض سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں بلکہ یہ ہماری سوچ، کردار، اتحاد، اداروں، معیشت، تعلیم، تہذیب اور قومی ذمہ داریوں کی حفاظت کا بھی نام ہے۔ آزادی حاصل کرنا یقیناً ایک تاریخی کامیابی ہے، مگر اسے برقرار رکھنا اس سے کہیں زیادہ مسلسل اور مشکل ذمہ داری ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا میں بہت سی قوموں نے آزادی حاصل کی، لیکن ہر قوم اپنی آزادی کی حقیقی روح کو محفوظ نہیں رکھ سکی۔ کچھ ریاستیں اندرونی انتشار کا شکار ہوئیں، کچھ معاشی کمزوری کے باعث دوسروں کی محتاج بن گئیں، کچھ نے اپنے قومی مفادات کو ذاتی اور گروہی مفادات کے تابع کر دیا اور کچھ قومیں نفرت، تعصب اور تقسیم کے ہاتھوں اپنی اجتماعی قوت کھو بیٹھیں۔ اس لیے پاکستان کی آزادی کا جشن مناتے ہوئے ہمیں صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہمیں آزادی کیسے ملی؟ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم اس آزادی کے امین کیسے بن سکتے ہیں۔

آزادی کا دوسرا نام ذمہ داری ہے۔ اگر ہمیں آزادی اظہار حاصل ہے تو ہمیں اس آزادی کے ساتھ ذمہ دارانہ گفتگو بھی سیکھنی ہوگی۔ اگر ہمیں اختلاف رائے کا حق حاصل ہے تو ہمیں مخالف رائے رکھنے والے کے احترام کا حوصلہ بھی پیدا کرنا ہوگا۔ اگر ہمیں مذہبی، ثقافتی اور سماجی آزادی حاصل ہے تو ہمیں دوسروں کے حقوق کا احترام بھی کرنا ہوگا۔ اگر ہمیں سیاسی آزادی حاصل ہے تو ہمیں ووٹ، قانون اور جمہوری اداروں کی اہمیت سمجھنی ہوگی۔ آزادی ہمیں یہ حق ضرور دیتی ہے کہ ہم سوال کریں، اختلاف کریں اور اصلاح کی آواز اٹھائیں، لیکن یہ حق ہمیں نفرت پھیلانے، تشدد کو فروغ دینے، جھوٹ پھیلانے یا دوسروں کے حقوق پامال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ آج کے دور میں آزادی کی حفاظت کا میدان صرف میدانِ جنگ نہیں رہا۔ دشمن صرف سرحد پر نہیں ہوتا؛ بعض اوقات وہ جھوٹ، نفرت، انتہا پسندی، فرقہ واریت، غلط معلومات، معاشی کمزوری اور سماجی تقسیم کی صورت میں ہمارے درمیان موجود ہوتا ہے۔ ایک جھوٹی خبر معاشرے میں وہ نقصان پیدا کر سکتی ہے جو کبھی ایک گولی بھی نہیں کر پاتی۔ ایک نفرت انگیز پیغام لوگوں کے درمیان ایسی خلیج پیدا کر سکتا ہے جسے بھرنے میں نسلیں لگ جائیں۔ اسی لیے موجودہ دور میں قومی سلامتی کا مفہوم بھی وسیع ہو چکا ہے۔ مضبوط پاکستان وہی ہوگا جہاں سرحدیں محفوظ ہوں، مگر ساتھ ہی معاشرہ بھی محفوظ، تعلیم یافتہ، متحد، باوقار اور پُرامن ہو۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قومی اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص ایک جیسا سوچے۔ حقیقی اتحاد یہ ہے کہ مختلف سوچ رکھنے والے لوگ ایک ہی وطن کے مفاد پر متفق رہیں۔ پاکستان کی خوبصورتی اس کی ثقافتی، لسانی، علاقائی اور سماجی رنگا رنگی میں ہے۔ پنجاب سے خیبر تک، سندھ سے بلوچستان تک، گلگت بلتستان سے آزاد کشمیر تک، ہرخطہ پاکستان کی قومی شناخت کا ایک اہم رنگ ہے۔ ہماری زبانیں مختلف ہوسکتی ہیں، ہماری روایات مختلف ہوسکتی ہیں، ہمارے رہن سہن میں فرق ہوسکتا ہے، لیکن وطن ایک ہے، پرچم ایک ہے اور مستقبل مشترک ہے۔

ہمیں اپنی نئی نسل کو تقسیم کی سیاست سے زیادہ تعمیر کی سیاست سکھانی ہوگی۔ ہمیں نوجوانوں کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ان کا مستقبل نفرت میں نہیں، علم میں ہے، تشدد میں نہیں، تخلیق میں ہے، مایوسی میں نہیں، امید میں ہے۔ اگر پاکستان کے نوجوان تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی، فنون، کھیل، کاروبار اور سماجی خدمت کے میدان میں آگے بڑھتے ہیں تو یہی آزادی کا حقیقی جشن ہوگا۔ کسی قوم کی سب سے بڑی طاقت صرف اس کے میزائل، عمارتیں یا وسائل نہیں بلکہ اس کے باصلاحیت، باکردار اور پرعزم انسان ہوتے ہیں۔ پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے ہمیں قانون کی بالادستی کو اپنی قومی زندگی کا بنیادی اصول بنانا ہوگا۔ جس معاشرے میں قانون طاقتور اور کمزور کے لیے مختلف ہو، وہاں آزادی کمزور پڑ جاتی ہے۔ قانون کی عزت صرف عدالتوں، پولیس یا اداروں کی ذمہ داری نہیں؛ یہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ ٹریفک سگنل کی پابندی سے لے کر ٹیکس کی ادائیگی تک، سرکاری املاک کے احترام سے لے کر عوامی وسائل کے درست استعمال تک، ہر چھوٹا عمل قومی کردار کی تشکیل کرتا ہے۔ ہم اکثر بڑے مسائل کے حل کے لیے بڑے اقدامات کا انتظار کرتے ہیں، حالانکہ قومیں روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی دیانت داریوں سے مضبوط بنتی ہیں۔

اسی طرح بدعنوانی کے خلاف جدوجہد بھی آزادی کے تحفظ کا حصہ ہے۔ قومی خزانے سے ایک معمولی خیانت بھی دراصل کسی بچے کی تعلیم، کسی مریض کے علاج، کسی سڑک کی تعمیر یا کسی ضرورت مند کے حق پر ڈاکا ہے۔ ہمیں یہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ سرکاری منصب اختیار نہیں، امانت ہے؛ عوامی وسائل ذاتی ملکیت نہیں، قومی امانت ہیں؛ اور عہدہ عزت کا ذریعہ ضرور ہے، مگر اس سے بڑھ کر جواب دہی کا تقاضا کرتا ہے۔ معاشی خودمختاری بھی آزادی کی بنیادی ضرورت ہے۔ سیاسی آزادی اس وقت تک مکمل قوت حاصل نہیں کر سکتی جب تک قوم معاشی طور پر مضبوط نہ ہو۔ ہمیں پیداوار بڑھانی ہوگی، برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا، صنعت اور زراعت کو جدید بنانا ہوگا، نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے اور علم و تحقیق کو معیشت کا بنیادی ستون بنانا ہوگا۔ دنیا میں باوقار وہی قومیں ہوتی ہیں جو اپنے فیصلے اپنے مفاد، اپنی صلاحیت اور اپنی خودمختاری کے ساتھ کرتی ہیں۔ تعلیم اس پورے سفر کی بنیاد ہے۔ ہمیں ایسی تعلیم کی ضرورت ہے جو صرف ڈگریاں نہ دے بلکہ کردار بھی تعمیر کرے؛ جو صرف ملازمت کی تلاش نہ سکھائے بلکہ مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرے؛ جو صرف مقابلے کا جذبہ نہ دے بلکہ اجتماعی بھلائی کا شعور بھی پیدا کرے۔ ہمیں نوجوانوں کو یہ بتانا ہوگا کہ پاکستان کا مستقبل صرف حکومتوں کے ہاتھ میں نہیں، ان کے اپنے ہاتھوں میں بھی ہے۔ جو نوجوان علم حاصل کرتا ہے، تحقیق کرتا ہے، نئی ایجاد کرتا ہے، کاروبار شروع کرتا ہے، دوسروں کے لیے روزگار پیدا کرتا ہے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرتا ہے، وہ دراصل آزادی کے اگلے مرحلے کی بنیاد رکھتا ہے۔

وطن سے محبت کا ایک اور اہم تقاضا یہ ہے کہ ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے لیے جگہ پیدا کریں۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ پاکستان صرف میرے لیے نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ہے۔ کسی شہری کا مذہب، زبان، علاقہ، نسل یا سماجی پس منظر اسے قومی حقوق سے محروم نہیں کرتا۔ ایک مضبوط پاکستان وہی ہے جہاں ہر شہری خود کو محفوظ، محترم اور برابر کا حصہ دار محسوس کرے۔ جب شہری ریاست سے جڑتے ہیں اور ریاست شہریوں کے حقوق اور عزت کی حفاظت کرتی ہے تو قومی یکجہتی مضبوط ہوتی ہے۔ آج ہمیں خود سے ایک بنیادی سوال پوچھنا چاہیے: اگر ہمارے بزرگوں نے ہمارے لیے آزادی قربانیاں دے کر حاصل کی تھی تو ہم آنے والی نسلوں کے لیے کیا چھوڑ کر جائیں گے؟ کیا ہم انہیں ایک ایسا پاکستان دیں گے جو قرضوں، نفرت، بدعنوانی اور تقسیم سے بوجھل ہو، یا ایسا پاکستان جس میں علم، انصاف، امن، خودداری، ترقی اور امید کی روشنی ہو؟ قربانی کا مطلب ہمیشہ جان دینا نہیں ہوتا۔ کبھی قربانی وقت کی ہوتی ہے، کبھی خواہش کی، کبھی ذاتی مفاد کی اور کبھی اپنے آرام کی۔ ایک استاد کا اضافی وقت دینا، ایک نوجوان کا اپنی صلاحیت ملک کے لیے استعمال کرنا، ایک افسر کا دباؤ کے باوجود اصول پر قائم رہنا، ایک شہری کا قانون کی پابندی کرنا، ایک والدین کا بچوں کو ذمہ دار شہری بنانا یہ سب قربانی کی وہ شکلیں ہیں جو قوموں کو اندر سے مضبوط کرتی ہیں۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ آزادی کو صرف ایک قومی تہوار نہیں بلکہ ایک مسلسل ذمہ داری سمجھیں گے۔ ہم اپنے شہداء کو صرف یاد نہیں کریں گے بلکہ ان کے کردار سے سبق بھی لیں گے۔ ہم وطن سے صرف محبت کا دعویٰ نہیں کریں گے بلکہ اپنے عمل سے اس محبت کو ثابت کریں گے۔ ہم اختلاف کو دشمنی نہیں بننے دیں گے، تنوع کو تقسیم نہیں بننے دیں گے، آزادی کو بے راہ روی نہیں بننے دیں گے اور طاقت کو ذمہ داری سے الگ نہیں کریں گے۔ پاکستان کی آزادی ایک امانت ہے؛ یہ امانت ہمیں تاریخ سے ملی ہے اور ہمیں اسے مستقبل کے حوالے کرنا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے پاکستان ہمیں صرف رہنے کے لیے نہیں دیا تھا، بلکہ اسے بہتر بنانے کی ذمہ داری بھی ہمارے کندھوں پر رکھی تھی۔ آج اگر ہم اپنے فرائض سے غافل ہوں تو آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ جب وطن کو آپ کی ضرورت تھی تو آپ نے کیا کیا؟

لہٰذا 14 اگست کا اصل پیغام صرف جشن نہیں، تجدیدِ عہد ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی حاصل کرنے کے بعد سفر ختم نہیں ہوتا؛ اصل سفر تو اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ سرحدوں کی حفاظت محافظوں کی ذمہ داری ہے، مگر وطن کے مستقبل کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے کردار سے ثابت کرنا ہوگا کہ ہم اس آزادی کے اہل بھی ہیں اور اس کے محافظ بھی۔ آئیے عہد کریں کہ پاکستان کو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مضبوط بنائیں گے۔ علم کو اپنا ہتھیار، اتحاد کو اپنی طاقت، قانون کو اپنا اصول، دیانت کو اپنا کردار، خدمت کو اپنی پہچان اور وطن کو اپنی ترجیح بنائیں گے۔ ہم اپنے اختلافات کو وطن سے بڑا نہیں ہونے دیں گے، ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر غالب نہیں آنے دیں گے اور مایوسی کو اپنی امید پر حاوی نہیں ہونے دیں گے۔ کیونکہ آزادی صرف یہ نہیں کہ ہم آزاد ہیں؛ آزادی یہ بھی ہے کہ ہم اس آزادی کے ذمہ دار ہیں اور جس دن ایک قوم اپنی آزادی کو حق کے ساتھ ذمہ داری، جذبات کے ساتھ کردار اور محبت کے ساتھ عمل سے جوڑ لیتی ہے، اس دن اس کی آزادی محض تاریخ کا ایک واقعہ نہیں رہتی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن عہد بن جاتی ہے۔

پاکستان زندہ باد!