5 اگست یومِ استحصالِ کشمیر
ایک تاریخ، ایک المیہ، ایک عہد
تاریخِ عالم میں بعض ایام محض گزرے ہوئے لمحات نہیں ہوتے بلکہ وہ پوری انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر ثبت ایسے نقوش بن جاتے ہیں جو آنے والی نسلوں کو ظلم، مزاحمت اور انصاف کی اہمیت کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ پانچ اگست بھی ایسا ہی ایک دن ہے۔ یہ تاریخ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے صرف ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ان کی شناخت، ان کے بنیادی حقوق اور ان کے اجتماعی مستقبل سے جڑا ہوا ایک ایسا باب ہے جس نے جنوبی ایشیا کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال یومِ استحصالِ کشمیر منایا جاتا ہے تاکہ کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جائے، ان کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے اور دنیا کو یہ یاد دلایا جائے کہ کشمیر کا مسئلہ آج بھی انصاف اور حقِ خودارادیت کا ایک حل طلب معاملہ ہے۔
پانچ اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے فیصلے نے ایک نئی صورتِ حال کو جنم دیا۔ اس اقدام کے بعد خطے میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے، مواصلاتی ذرائع محدود ہوئے، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں لگیں اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ اس تمام منظرنامے نے کشمیری عوام میں اپنے مستقبل، اپنی شناخت اور اپنے بنیادی حقوق کے حوالے سے گہری تشویش پیدا کی۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والے مختلف اداروں، بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور مبصرین نے بھی اس صورتِ حال پر توجہ دلائی اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ کشمیر کی سرزمین قدرت کی بے مثال صناعی کا شاہکار ہے۔ فلک بوس پہاڑ، برف سے ڈھکی چوٹیاں، شفاف جھیلیں، لہلہاتے سبزہ زار اور دلکش وادیاں اس خطے کو دنیا کے خوبصورت ترین علاقوں میں شمار کراتی ہیں۔ مگر اسی سرزمین کے باسی گزشتہ کئی دہائیوں سے خوف، بے یقینی اور محرومی کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک طرف قدرت نے حسن کی انتہا عطا کی اور دوسری طرف حالات نے ان کے چہروں سے مسکراہٹ چھین لی۔ یہ تضاد ہی کشمیر کے المیے کو مزید دردناک بنا دیتا ہے۔
کشمیر کا مسئلہ کسی ایک ریاست کی داخلی سیاست تک محدود نہیں بلکہ یہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اس مسئلے پر مختلف اوقات میں گفتگو ہوتی رہی ہے اور یہ توقع کی جاتی رہی ہے کہ اس کا حل ایسے طریقے سے تلاش کیا جائے جو انصاف، امن اور کشمیری عوام کی خواہشات سے ہم آہنگ ہو۔ پائیدار امن کا قیام ہمیشہ انصاف کی بنیاد پر ممکن ہوتا ہے، کیونکہ جب کسی قوم کو یہ احساس ہو کہ اس کی آواز سنی جا رہی ہے تو تصادم کے امکانات کم اور اعتماد کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ کشمیر کی تاریخ قربانیوں سے عبارت ہے۔ وہاں کے ہزاروں خاندان ایسے ہیں جنہوں نے اپنے عزیزوں کو کھویا، بے شمار بچے ایسے ہیں جنہوں نے خوف کے سائے میں آنکھ کھولی، نوجوان ایسے ہیں جن کے خواب حالات کی سختیوں میں پروان چڑھے، اور بزرگ ایسے ہیں جو امن اور سکون کی آرزو لیے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ہر گھر کی اپنی ایک داستان ہے، ہر گاؤں کا اپنا ایک دکھ ہے اور ہر آنکھ میں ایک ایسی امید ہے جو تمام مشکلات کے باوجود بجھنے سے انکار کرتی ہے۔
اگر کسی قوم کی طاقت کا اندازہ لگانا ہو تو اس کے وسائل نہیں بلکہ اس کے حوصلے دیکھے جاتے ہیں۔ کشمیری عوام نے اپنے عزم، صبر اور استقلال سے یہ ثابت کیا ہے کہ حالات خواہ کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، انسان اپنے تشخص اور وقار سے دستبردار نہیں ہوتا۔ یہی جذبہ ہر دور میں ظلم کے مقابلے میں امید کا چراغ روشن رکھتا ہے اور یہی جذبہ قوموں کو زندہ رکھتا ہے۔تاریخ کا ایک ناقابلِ تردید اصول ہے کہ جبر کی بنیادیں بظاہر مضبوط دکھائی دیتی ہیں مگر وہ ہمیشہ عارضی ثابت ہوتی ہیں، جبکہ انصاف اور حق کی بنیادیں دیرپا ہوتی ہیں۔ دنیا کی بے شمار اقوام نے مشکلات، پابندیوں اور آزمائشوں کے باوجود آخرکار اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور تاریخ نے انہی آوازوں کو دوام بخشا۔ کشمیر کی سرزمین بھی اسی یقین کی علامت ہے کہ امید کو قید نہیں کیا جا سکتا اور انسانی وقار کو ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔ پاکستان کے عوام کے لیے یومِ استحصالِ کشمیر صرف اظہارِ ہمدردی کا دن نہیں بلکہ اپنی اخلاقی اور انسانی ذمہ داری کی تجدید کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں اگر انسانی حقوق، انصاف اور آزادی کے بنیادی اصولوں کو چیلنج کیا جائے تو خاموش رہنا مناسب نہیں۔ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا، امن کی حمایت کرنا اور انصاف کی بات کرنا مہذب اقوام کا وصف ہوتا ہے۔
یہ دن ہمیں یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ اختلافات کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مکالمے، باہمی احترام، قانون کی بالادستی اور انسانی وقار کے تحفظ میں پوشیدہ ہے۔ جنوبی ایشیا کے کروڑوں عوام کا مستقبل امن، استحکام اور ترقی سے وابستہ ہے، اور اس منزل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ دیرینہ تنازعات کو انصاف اور بین الاقوامی اصولوں کی روشنی میں حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ پاکستان نے اپنے قیام سے لے کر آج تک مسئلۂ کشمیر کو ایک اصولی، قانونی اور انسانی مسئلہ قرار دیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کا وہ حق ملنا چاہیے جسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اسی اصولی مؤقف کے تحت پاکستان ہر سال 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر مناتا ہے تاکہ کشمیری عوام کے ساتھ اپنی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے اور عالمی ضمیر کو یہ یاد دلایا جائے کہ یہ مسئلہ ابھی تک انصاف کا متقاضی ہے۔
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ کشمیری عوام نے اپنی سرزمین، شناخت اور وقار کے تحفظ کے لیے بے مثال استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کی جدوجہد صرف سیاسی مطالبات تک محدود نہیں بلکہ انسانی عزتِ نفس، بنیادی آزادیوں اور ایک باوقار مستقبل کی خواہش سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کی ثابت قدمی اس بات کی علامت ہے کہ مشکلات خواہ کتنی ہی طویل کیوں نہ ہوں، امید کا چراغ بجھایا نہیں جا سکتا۔ عالمی برادری کے لیے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ انسانی حقوق، انصاف اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو ہر خطے میں یکساں اہمیت دی جائے۔ اگر دنیا امن، آزادی اور انسانی وقار کو عالمی اقدار قرار دیتی ہے تو پھر ان اقدار کا اطلاق بھی بلاامتیاز ہونا چاہیے۔ انصاف کا حسن اسی وقت برقرار رہتا ہے جب اس کے پیمانے سب کے لیے یکساں ہوں۔ منتخب انصاف نہ صرف اس کی اخلاقی قوت کو کمزور کرتا ہے بلکہ مظلوم اقوام کے اعتماد کو بھی مجروح کرتا ہے۔ اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں، عالمی ذرائع ابلاغ، دانشوروں اور سول سوسائٹی پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے تمام حالات پر توجہ دیں جہاں بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے بارے میں سنجیدہ خدشات موجود ہوں۔ اختلافات کا دیرپا حل ہمیشہ مکالمے، انصاف، تحمل اور قانون کی حکمرانی میں پوشیدہ ہوتا ہے، نہ کہ کشیدگی اور تصادم میں۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ جنوبی ایشیا دنیا کے گنجان آباد ترین خطوں میں سے ایک ہے۔ اس خطے کے عوام ترقی، تعلیم، صحت، تجارت اور خوشحالی کے خواہاں ہیں۔ دیرینہ تنازعات کا منصفانہ حل نہ صرف متعلقہ عوام کے لیے بلکہ پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ امن کی بنیاد ہمیشہ اعتماد، انصاف اور باہمی احترام پر استوار ہوتی ہے، جبکہ پائیدار ترقی بھی اسی ماحول میں پروان چڑھتی ہے۔ یومِ استحصالِ کشمیر صرف احتجاج یا یاددہانی کا دن نہیں بلکہ یہ عہد کی تجدید کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا، انصاف کا مطالبہ کرنا اور انسانی وقار کے تحفظ کی حمایت کرنا ایک مہذب معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر ضروری ہے کہ نئی نسل کو بھی کشمیر کی تاریخ، اس کے قانونی اور انسانی پہلوؤں اور امن و انصاف کی عالمی اہمیت سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ جذبات کے ساتھ ساتھ دلیل اور شعور کی بنیاد پر بھی اس مسئلے کو سمجھ سکے۔کشمیر کی داستان ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قوموں کو صرف طاقت سے نہیں بلکہ امید، اتحاد، کردار اور عزم سے زندہ رکھا جاتا ہے۔ تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات موجود ہیں جہاں وقتی طاقت کو دوام نہ مل سکا، لیکن حق، انصاف اور انسانی وقار کی جدوجہد ہمیشہ زندہ رہی۔ یہی حقیقت کشمیری عوام کے حوصلے میں جھلکتی ہے، جو تمام مشکلات کے باوجود اپنے تشخص اور اپنے مستقبل کے بارے میں امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ آج جب ہم یومِ استحصالِ کشمیر منا رہے ہیں تو یہ وقت محض ماضی کے واقعات کو یاد کرنے کا نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک واضح پیغام دینے کا بھی ہے۔ یہ پیغام امن کا ہے، انصاف کا ہے، انسانی وقار کے احترام کا ہے اور اس یقین کا ہے کہ اختلافات کا پائیدار حل صرف ایسے راستے سے نکل سکتا ہے جو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور متعلقہ عوام کی جائز امنگوں کا احترام کرے۔
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ کشمیری عوام کو امن، سلامتی اور عزت کی زندگی عطا فرمائے، ہر مظلوم کو انصاف نصیب ہو، خطے میں پائیدار امن قائم ہو اور جنوبی ایشیا نفرت، تشدد اور کشیدگی کے بجائے تعاون، ترقی اور باہمی احترام کی راہ پر گامزن ہو۔5 اگست کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ تاریخ کا دھارا ہمیشہ طاقت کے زور سے نہیں بلکہ اصولوں کی قوت سے بدلتا ہے۔ ظلم وقتی طور پر خاموشی مسلط کر سکتا ہے، مگر ضمیر کی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کر سکتا۔ قوموں کے خواب پابندیوں سے ختم نہیں ہوتے، امید کے چراغ اندھیروں سے نہیں بجھتے، اور انصاف کی آرزو وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہی یومِ استحصالِ کشمیر کا اصل پیغام ہے؛ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے، انسانی وقار کے احترام اور انصاف پر مبنی پائیدار امن کے لیے مسلسل جدوجہد کا پیغام
© 2026 PPN - پرامن پاکستان نیٹ ورک