افغانستان ہوش کے ناخن لے! ریاستی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی جدید بین الاقوامی نظام کے بنیادی اصول ہیں۔ جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تاریخی، جغرافیائی اور تہذیبی رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں ان تعلقات میں کشیدگی نے علاقائی استحکام کے […]
افغانستان ہوش کے ناخن لے!
ریاستی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی جدید بین الاقوامی نظام کے بنیادی اصول ہیں۔ جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تاریخی، جغرافیائی اور تہذیبی رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں ان تعلقات میں کشیدگی نے علاقائی استحکام کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ خصوصاً افغانستان کی سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں مبینہ استعمال، پراکسی جنگ ، غیر ریاستی عناصر اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت جیسے عوامل نے باہمی اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے نظریۂ حقیقت پسندی کے مطابق ریاستیں اپنی بقا اور طاقت کے توازن کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرتی ہیں۔ اگر کسی ریاست کی سرزمین کو دوسری ریاست کے خلاف استعمال ہونے دیا جائے تو یہ نہ صرف ویسٹ فیلیا (Westphalian Sovereignty) کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کو بھی کمزور کرتی ہے۔ پاکستان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے سرگرم بعض عناصر سرحد پار دہشت گردی میں ملوث ہیں، جو ریاستی خودمختاری کے اصول کے منافی ہے۔
افغانستان میں برسراقتدار افغان طالبان کی حکومت سے پاکستان کو توقع تھی کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی قسم کی دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گی۔ بین الاقوامی قانون میں “Due Diligence” کا اصول ریاستوں پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ اپنی حدود میں موجود عناصر کو دیگر ریاستوں کے خلاف سرگرم ہونے سے روکیں۔ اگر یہ ذمہ داری پوری نہ کی جائے تو اسے بالواسطہ سہولت کاری سمجھا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں میں افغانستان کے ساتھ تعلقات میں انتہائی صبر اور مثبت سوچ کی پالیسی اپنائی۔ افغان مہاجرین کی میزبانی، اقتصادی راہداریوں کی سہولت، انسانی ہمدردی کی امداد، اور سفارتی حمایت ایسے اقدامات ہیں جنہیں نرم طاقت اور مثبت ہمسائیگی کی مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر اس کے برعکس پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو اور ان کے تانے بانے افغان سرزمین سے ملتے ہوں تو یہ صورت حال باہمی اعتماد کو گہرا کرتی ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں پراکسی سیاست اور ہائبرڈ وارفیئرکے تصورات اہمیت رکھتے ہیں۔ بھارت کی ایماء پہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں ۔ اس نوعیت کی سرگرمیاں خطے میں سیکیورٹی خدشات کو بڑھاتی ہیں، جس میں ایک ریاست کے دفاعی اقدامات دوسری ریاست کے لیے خطرہ محسوس ہوتے ہیں اور یوں کشیدگی کا دائرہ وسیع ہو جاتا ہے۔
سیاسیات کے تناظر میں ریاستی استحکام کا انحصار داخلی سلامتی اور بیرونی تحفظ دونوں پر ہوتا ہے۔ اگر سرحد پار سے عسکریت پسند گروہ یا انتہاپسند نظریات کو تقویت ملے تو یہ کسی بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی جامع حکمت عملی اپنائی، جس میں فوجی آپریشنز، قومی ایکشن پلان، اور نیشنل سیکیورٹی پالیسی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ تاہم اگر علاقائی تعاون نہ ہو تو ان کوششوں کے مطلوبہ نتائج محدود رہ سکتے ہیں۔ لبرل ازم کے نظریے کے مطابق ریاستوں کے درمیان باہمی انحصار ، اقتصادی تعاون اور ادارہ جاتی روابط تنازعات کو کم کر سکتے ہیں۔ پاک۔افغان تعلقات میں تجارتی راہداریوں، ٹرانزٹ ٹریڈ، اور سرحدی منڈیوں کے قیام جیسے اقدامات اعتماد سازی کے اقدامات کے طور پر اہم ہو سکتے ہیں۔ مگر جب سلامتی کے خدشات غالب آ جائیں تو اقتصادی تعاون بھی متاثر ہوتا ہے، جس سے دونوں ممالک کو نقصان پہنچتا ہے۔
علاقائی سیاست میں مسلح غیر ریاستی عناصر کا کردار اکثر ریاستی نظم و نسق کو چیلنج کرتا ہے۔ اگر کوئی حکومت ان عناصر کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے تو اسے انتظامی خسارہ کہا جاتا ہے۔ افغانستان میں سیاسی منتقلی اور بین الاقوامی تنہائی نے داخلی استحکام کو متاثر کیا ہے، جس کے اثرات پڑوسی ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔ پاکستان براہ راست اس صورت حال کا سامنا کر رہا ہے، جہاں ایک ریاست کی عدم استحکام دوسری ریاست کی سلامتی کو متاثر کرتی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں باہمی جواب دہی کا اصول بھی اہم ہے۔ اگر ایک ریاست مسلسل معاونت فراہم کرے اور اس کے بدلے میں اسے سلامتی کے خطرات کا سامنا ہو تو اس سے خارجہ پالیسی کے توازن پر سوال اٹھتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی خودمختاری اور امن عمل کی حمایت کی، لیکن اگر بدلے میں اسے سرحدی حملوں یا دہشت گردی کا سامنا ہو تو یہ بات اسے اپنی پالیسی پہ نظرثانی کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔
علاقائی امن کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک باہمی سیکیورٹی فریم ورک تشکیل دیں، جس میں انٹیلی جنس شیئرنگ، سرحدی نگرانی ، اور مشترکہ انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی شامل ہوں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور دیگر علاقائی پلیٹ فارمز کو استعمال کر کے اجتماعی سلامتی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بامعنی مذاکرات اور اعتماد سازی کی تدابیر بھی ناگزیر ہیں۔ سیاسی حقیقت یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن حساس مرحلے میں ہے۔ اگر افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے دیا گیا تو یہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچائے گا بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر مؤثر رٹ قائم کرے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح اور عملی اقدامات کرے۔
الغرض، پاک افغان تعلقات کو جذبات کے بجائے اسٹریٹجک حقیقت پسندی اور ذمہ دارانہ ہمسائیگی کی بنیاد پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاستی خودمختاری، علاقائی سالمیت، اور عدم مداخلت کے اصولوں کا احترام دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ اگر افغانستان اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے استحکام اور ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ بصورت دیگر، عدم اعتماد اور سیکیورٹی خدشات خطے کو مزید کشیدگی کی طرف لے جا سکتے ہیں، جس کا نقصان سب کو اٹھانا پڑے گا۔
© 2026 PPN - پرامن پاکستان نیٹ ورک