دہشت گردی کے خلاف قومی عزم: خیبر سے مہران تک ایک مضبوط اور متحد پاکستان دہشت گردی انسانیت کے خلاف ایک ایسا سنگین جرم ہے جس نے دنیا بھر میں لاکھوں بے گناہ افراد کی جانیں لیں، خاندان اجاڑے، معاشروں کو عدم استحکام کا شکار کیا اور ترقی کی راہ میں بے شمار رکاوٹیں کھڑی […]
دہشت گردی کے خلاف قومی عزم: خیبر سے مہران تک ایک مضبوط اور متحد پاکستان
دہشت گردی انسانیت کے خلاف ایک ایسا سنگین جرم ہے جس نے دنیا بھر میں لاکھوں بے گناہ افراد کی جانیں لیں، خاندان اجاڑے، معاشروں کو عدم استحکام کا شکار کیا اور ترقی کی راہ میں بے شمار رکاوٹیں کھڑی کیں۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اس ناسور کے خلاف طویل، کٹھن اور قربانیوں سے بھرپور جدوجہد کی ہے۔ ہمارے ہزاروں شہری، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور اہلکار، مسلح افواج کے جوان، اساتذہ، علماء، صحافی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہی لازوال قربانیوں کی بدولت آج پاکستان امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
جو عناصر دہشت گردی، انتہا پسندی اور تشدد کو اپنے مقاصد کے حصول کا ذریعہ بناتے ہیں، وہ نہ صرف ملکی قوانین بلکہ بنیادی انسانی اقدار اور بین الاقوامی اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات یہی عناصر انسانی حقوق اور بین الاقوامی جنگی قوانین کا حوالہ دے کر اپنے اقدامات کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ ان کا اپنا طرزِ عمل ان دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔ معصوم شہریوں، عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں، بازاروں، ہسپتالوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانا کسی بھی مذہب، قانون یا اخلاقی اصول کے تحت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ دہشت گردی نے کسی ایک طبقے، علاقے یا مذہب کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ پوری قوم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ دہشت گردی کی کارروائیوں میں خواتین، بچے، بزرگ، طلبہ، اساتذہ، ڈاکٹرز، مزدور، کسان، تاجر اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہری متاثر ہوئے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گرد عناصر کا مقصد صرف خوف و ہراس پھیلانا اور ریاستی و سماجی استحکام کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ آج کے دور میں دہشت گردی صرف ہتھیاروں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے ساتھ معلوماتی جنگ، گمراہ کن بیانیہ، افواہوں، جھوٹی خبروں اور منظم پروپیگنڈے کو بھی بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنا، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانا اور نوجوانوں کو گمراہ کرنا دہشت گرد تنظیموں کی حکمت عملی کا حصہ بن چکا ہے۔ اس لیے ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی غیر مصدقہ خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق کرے اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرے۔
پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے، مسلح افواج، انٹیلی جنس ادارے اور دیگر ریاستی ادارے آئین اور قانون کے مطابق ملک کے امن و استحکام کے لیے شب و روز خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان اداروں کے افسران اور جوانوں نے بے مثال قربانیاں دے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور پوری قوم ان شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف سکیورٹی فورسز کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ علماء، اساتذہ، والدین، میڈیا، سول سوسائٹی، نوجوان اور ہر باشعور شہری اس جدوجہد کا اہم حصہ ہیں۔ جب معاشرہ متحد ہو کر امن، برداشت، رواداری، قانون کی پاسداری اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتا ہے تو دہشت گرد عناصر کے لیے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل ناممکن ہو جاتی ہے۔
پاکستان کی عوام نے ہر مشکل وقت میں اتحاد، صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے۔ کراچی سے خیبر، گلگت بلتستان سے بلوچستان، سندھ سے پنجاب اور مہران سے مکران تک ہر پاکستانی اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ملک کا امن، ترقی اور استحکام سب سے مقدم ہے۔ یہی قومی یکجہتی دہشت گردی کے خلاف ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ پاکستان کے ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ قانون کا احترام کرے، قومی اداروں کے ساتھ تعاون کرے، نوجوان نسل کو مثبت سوچ، تعلیم، تحقیق، برداشت اور ذمہ دار شہری ہونے کی ترغیب دے۔ اختلافِ رائے ہر جمہوری معاشرے کا حسن ہے، مگر اختلاف کو تشدد، نفرت یا قانون شکنی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، گھروں، میڈیا، مساجد، جامعات اور معاشرے کے ہر شعبے میں لڑی جاتی ہے۔ جب قوم متحد ہو، قانون کی حکمرانی پر یقین رکھے اور قومی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دے تو کوئی بھی انتہا پسند نظریہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔
آج پاکستان کا ہر باشعور شہری اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ وہ امن، اتحاد، رواداری اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ہماری اجتماعی قوت ہی ایک محفوظ، مستحکم اور خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے۔ خیبر سے مہران تک، پاکستان کا ہر گوشہ امن، اتحاد اور قومی یکجہتی کی علامت ہے۔ ہمارے ہر بہادر سپاہی، پولیس اہلکار، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور عوام نے ثابت کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی عزم ناقابلِ شکست ہے۔ یہی اتحاد، یہی قربانی اور یہی استقامت پاکستان کو ایک مضبوط، محفوظ اور پرامن ریاست بنائے گی، اور آنے والی نسلوں کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی راہیں ہموار کرے گی۔
© 2026 PPN - پرامن پاکستان نیٹ ورک